خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 525 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 525

خطبات مسرور جلد و هم 525 خطبه جمعه فرموده مورخه 31 اگست 2012 ء اپنے ذاتی مہمان نہ ہوں، کوئی عزیز رشتہ دار نہ ہوں، کوئی دنیاوی غرض نہ ہو بلکہ بے نفس ہو کر خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے مہمان نوازی ہو تو پھر یقیناً ایسی مہمان نوازی اللہ تعالیٰ کے ہاں دوہرا اجر پانے والی ہوتی ہے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی مہمان نوازی کی طرف توجہ دلائی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا واقعہ بھی بیان ہوا ہے۔اُن کی مہمان نوازی کی خصوصیت کو بھی اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر بیان فرمایا ہے کہ مہمان کے آتے ہی پہلا کام جو انہوں نے کیا وہ یہ تھا کہ جو بھی وہاں کا انتظام تھا اُس کے مطابق ایک پر تکلف کھانا اُن کے سامنے چن دیا گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب پہلی وحی ہوئی اور آپ کو اس سے خوف پیدا ہوا تو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ کی بات سن کر فوری طور پر اور بے ساختہ آپ کی جن خوبیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ ایسی خوبیوں والے کو خدا تعالیٰ کس طرح ضائع کر سکتا ہے یا اُس سے کس طرح ناراض ہو سکتا ہے، اُن میں سے ایک اعلیٰ وصف اور خوبی حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہمان نوازی بتائی تھی۔(صحیح بخاری کتاب بدء الوحى باب كيف كان بدء الوحي الى رسول الله حدیث (3) پس مہمان نوازی کوئی معمولی بات نہیں ہے۔انبیاء کے اوصاف میں سے ایک وصف ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو تو خاص طور پر جو کام دیئے گئے ہیں اُن میں سے ایک اہم کام مہمان نوازی کا بھی ہے۔فرمایا تھا مہمان آئیں گے تو نہ پریشان ہونا ہے ، نہ تھکنا ہے۔(ماخوذ از تذکره صفحه 535 ایڈیشن چہارم مطبوعہ ربوہ) پس جماعت بھی من حیث الجماعت اور جماعت کا ہر فرد بھی اس اہم فریضہ کی ادائیگی کا ذمہ دار ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مہمان کی کس طرح عزت افزائی فرما یا کرتے تھے، کس طرح اُس کا خیال رکھا کرتے تھے؟ اس کا اظہار ایک واقعہ سے ہی بخوبی ہو سکتا ہے کہ ایک مرتبہ آپ بیمار تھے، طبیعت بہت ناساز تھی۔آپ کو مہمان کے آنے کی خبر ہوئی تو فوری طور پر باہر تشریف لے آئے اور فرمایا کہ آج میں باہر آنے کے قابل نہ تھا لیکن مہمان کا کیونکہ حق ہوتا ہے، وہ تکلیف اُٹھا کر آتا ہے اس لئے میں اس حق کو ادا کرنے کے لئے باہر آ گیا ہوں۔(ماخوذ از ملفوظات جلد پنجم صفحہ 163۔ایڈیشن 2003 ء۔مطبوعہ ربوہ ) وہ مہمان جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے، آپ کی صحبت