خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 524 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 524

خطبات مسرور جلد دہم 524 خطبه جمعه فرموده مورخه 31 اگست 2012 ء یا نہیں ہوسکتا۔گو کہ اکثر حصہ جلسہ سالانہ کے اخراجات کا یو کے جماعت ہی برداشت کرتی ہے لیکن بہر حال مرکز کو بھی اخراجات میں تیس پینتیس فیصد حصہ یا بعض دفعہ زیادہ ڈالنا پڑتا ہے۔یہ اخراجات کچھ مرکز کو بھی برداشت کرنے پڑتے ہیں۔یہ میں اس لئے بتا رہا ہوں کہ بعض طبائع بعض دفعہ یہ اظہار کر دیتی ہیں کہ یو کے جماعت پر مرکز بہت بوجھ ڈال دیتا ہے۔گو کہ یہاں کی جماعت کی اکثریت قربانی کرنے والوں کی ہے اور جلسہ کی برکات کی وجہ سے یہی چاہتی ہے یا چاہے گی اور میں امید رکھتا ہوں یہی چاہتے ہوں گے کہ وہی سب خرچ برداشت کریں لیکن چند بے چینیاں پیدا کرنے والے بے چینی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اور پھر جیسا کہ میں نے کہا کیونکہ مرکزی جلسہ کی حیثیت ہے اس لئے مرکز بھی اپنا فرض سمجھتا ہے کہ کچھ حصہ اس میں ڈالا جائے۔بہر حال میں یہ ذکر کر رہا تھا کہ یوکے کا جلسہ سالانہ دنیا کی نظر میں ایک مرکزی جلسہ ہے اس لئے یہاں کے کارکنوں اور انتظامیہ کی ذمہ داری بھی بہت بڑھ جاتی ہے اور مجھے بھی اس کی فکر ہوتی ہے۔اس لئے جلسہ سے پہلے اس طرف توجہ دلائی جاتی ہے کہ کارکنان ہمیشہ یادرکھیں کہ تمام دنیا کے احمدیوں کی نظر اور اس حوالے سے اُن احمدیوں سے تعلق رکھنے والوں کی نظر، یعنی غیر از جماعت کی نظر بھی جو مختلف ممالک سے بطور مہمان آئے ہوتے ہیں، بعض سرکردہ لیڈر اور معززین ہوتے ہیں، اُن کی نظر جلسہ کے انتظامات اور کارکنان پر ہوتی ہے۔اس لئے کارکنان کے رویے، اُن کے کام کے طریق، اُن کے اخلاق ، ان کی مہمان نوازی کے معیار انسانی استعدادوں کے مطابق بہتر سے بہتر ہونے چاہئیں جس کے لئے ہر کارکن کو، مرد کو عورت کو ، بچے کو جو مختلف ڈیوٹیوں پر مقرر کئے گئے ہیں، اپنی بھر پور کوشش کرنی چاہئے اور ہمیشہ جلسہ کے بعد جس طرح خاص طور پر باہر سے آنے والے غیر مہمان یہاں کے کارکنان کی مہمان نوازی کی تعریف کرتے رہے ہیں۔اس سال بھی اور ہمیشہ یہی کوشش ہونی چاہئے کہ یہ معیار کبھی گرنے نہ پائیں بلکہ ہر سال معیار بلند ہونا چاہئے۔مومن کا قدم پیچھے نہیں ہٹتا بلکہ آگے ہی آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ہمیشہ ترقی کی طرف جانا چاہئے۔مہمان نوازی کوئی معمولی وصف یا عمل نہیں ہے بلکہ ایسی نیکی ہے جس کا قرآن کریم میں بھی ذکر ہے اور مومنوں کو یہ حکم ہے کہ نیکیوں میں آگے بڑھو۔ایک مہمان نوازی ہوتی ہے جو عام دنیا دار بھی کرتے ہیں۔ہرا چھے اخلاق والا ایسی مہمان نوازی کر رہا ہوتا ہے۔اُس کی بھی بڑی اہمیت ہوتی ہے اور اللہ کی مخلوق کی خدمت کی وجہ سے یقیناً ایسا شخص ثواب کا بھی مستحق ہوتا ہوگا۔لیکن جب ایک عمل خالصتا للہ کیا جائے