خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 519
خطبات مسرور جلد دہم 519 خطبه جمعه فرموده مورخه 24 اگست 2012 ء تھے اور جب تک مدد نہ کر لیتے چین نہیں آتا تھا۔ان کا لندن میں گھر ہے۔ان کے ایک واقف زندگی ہمسائے نے مجھے بتایا کہ یہاں لکڑی کی پارٹیشنز ہوتی ہیں تو آندھی طوفان سے ان کی بیچ کی دیوار گر گئی تو ایک دن وہ خود ہی آئے ، انہوں نے کہا کہ آپ فکر نہ کریں میں خود ہی آکے ٹھیک کروا دوں گا۔اُس نے سفر پر جانا تھا تو دو دن بعد خود ہی دیوار ٹھیک کروا دی۔بہر حال انتہائی مخلص، نافع الناس وجود تھے۔خلافت کے شیدائی ، نظام جماعت کی بقا اور خدمت کے لئے عملاً ہر وقت تیار۔ان کے پسماندگان میں اہلیہ اور ایک بیٹی ہیں۔بعضوں نے لکھا ہے۔مثلاً یہاں عربی ڈیسک میں ہمارے عکرمہ صاحب میرے سامنے بیٹھے ہیں۔انہوں نے بھی مجھے لکھا کہ جماعت کے اموال و نفوس کا بہت خیال رکھنے والے صاحب بصیرت انسان تھے اور یہ حقیقت ہے۔جماعتی لحاظ سے ملک کے اندرونی اور بیرونی حالات پر آپ کی بڑی گہری نظر تھی اور بڑے بہادر انسان تھے۔خدا کی راہ میں کسی بھی کام کی انجام دہی کے لئے کسی چیز کی پرواہ نہیں کیا کرتے تھے۔بہت کریم ، با اخلاق، بہادر اور مہربان تھے۔یہ لکھتے ہیں کہ نو احمدیوں کے لئے مہربان باپ کی طرح تھے اور یہ واقعی حقیقت ہے۔مجھے کئی نو احمدی بھی لکھتے رہے ہیں۔آپ بسا اوقات نو احمد یوں کو ملنے اور خلافت سے ان کا تعلق جوڑنے کے لئے پانچ پانچ سو میل تک سفر کرتے تھے۔آپ کو حج اور عمرہ کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک کر تہ آپ کے پاس تھا۔انہوں نے حج یا عمرہ کے دوران اس کو پہنا اور خانہ کعبہ کے ساتھ اس کو مس کیا۔ان کی اہلیہ لکھتی ہیں کہ میرا ان کا بنتیس سال کا ساتھ رہا لیکن سارے عرصہ میں میں نے ان کو ایک منٹ بھی ضائع کرتے ہوئے نہیں پایا۔ایک نہایت شفیق، ہر ایک سے محبت کرنے والے، اسلام احمدیت کے سچے خادم، خلافت سے بے انتہا عقیدت اور اس پر جاں نثار کرنے والے، دعا گو اور ایک سچے انسان تھے۔اور اس میں کوئی مبالغہ نہیں جو کچھ انہوں نے لکھا ہے۔انہوں نے اپنی زندگی نہایت منظم با اصول اور وقت کی پابندی کے ساتھ گزاری۔چالیس سال سے زائد عرصے سے 1/9 حصہ کے موصی تھے۔کہتی ہیں کہ مجھے کہا کرتے تھے کہ زندگی میں میرے لئے سب سے پہلے خلافت، پھر فیملی اور اُس کے بعد دوسری چیزیں آتی ہیں۔انہوں نے ہاشم صاحب کی ڈائری اُن کی وفات کے بعد دیکھی تو اس میں ان کی چند خوا میں بھی لکھی ہوئی تھیں۔ایک خواب میں وہ لکھتے ہیں کہ ایک رات چار مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی۔جس میں پہلی مرتبہ آپ کا چہرہ آفتاب کی طرح چمک رہا تھا۔آپ نے ہاتھ میں ایک انگوٹھی پہنی ہوئی تھی جس میں سے نہایت روشن شعاعیں نکل رہی تھیں۔آپ تکیے کا سہارا لے کر بیٹھے کچھ پڑھ رہے تھے اور اسی انگوٹھی سے بہت تیز شعاعیں نکل رہی تھیں۔پھر دوسری خواب وہاں لکھی ہے کہ میں ایک مکان میں ہوں جس میں گویا