خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 46 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 46

خطبات مسرور جلد دہم 46 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 جنوری 2012ء در کے نہ ہو۔اُسی کے دل سے دعا نکلتی ہے۔غرض ربنا اتنا في الدُّنيا۔۔۔۔الخ ایسی دعا کرنا صرف اُنہیں لوگوں کا کام ہے جو خدا ہی کو اپنا رب جان چکے ہیں اور ان کو یقین ہے کہ ان کے رب کے سامنے اور سارے ارباب باطلہ بیچ ہیں۔فرمایا کہ آگ سے مراد صرف وہی آگ نہیں جو قیامت کو ہوگی۔“ (وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ جو کہا ہے ) فرمایا کہ آگ سے مراد صرف وہی آگ نہیں جو قیامت کو ہوگی بلکہ دنیا میں بھی جو شخص ایک لمبی عمر پاتا ہے وہ دیکھ لیتا ہے کہ دنیا میں بھی ہزاروں طرح کی آگ ہے۔تجربہ کار جانتے ہیں کہ قسم قسم کی آگ دنیا میں موجود ہے۔طرح طرح کے عذاب، خوف بحزن ،فقر و فاقے ،امراض، ناکامیاں، ذلت و ادبار کے اندیشے، ہزاروں قسم کے دکھ ، اولاد بیوی وغیرہ کے متعلق تکالیف اور رشتے داروں کے ساتھ معاملات میں الجھن ، غرض یہ سب آگ ہیں۔تو مومن دعا کرتا ہے کہ ساری قسم کی آگوں سے ہمیں بچا۔جب ہم نے تیرا دامن پکڑا ہے تو ان سب عوارض سے جو انسانی زندگی کو تلخ کرنے والے ہیں اور انسان کے لئے بمنزلہ آگ ہیں بچائے رکھ۔( ملفوظات جلد 3 صفحہ 144-145 ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ) پھر حقیقی احمدیوں سے خدا تعالیٰ کا وعدہ۔اس کا کچھ ذکر پہلے بھی ہو چکا ہے تفصیلی ذکر یہ ہے کہ آپ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے وَ جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ (آل عمران : 56) یہ تسلی بخش وعدہ ناصرہ میں پیدا ہونے والے ابن مریم سے ہوا تھا۔مگر میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ یسوع مسیح کے نام سے آنے والے ابن مریم کو بھی اللہ تعالیٰ نے انہیں الفاظ میں مخاطب کر کے بشارت دی ہے (کہ میں جو مسیح بن کر آیا ہوں، مسیح موعود مجھے بھی اللہ تعالیٰ نے یہی بشارت دی ہے۔) اب آپ سوچ لیں کہ جو میرے ساتھ تعلق رکھ کر اس وعدہ عظیم اور بشارت عظیم میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔کیا وہ وہ لوگ ہو سکتے ہیں جو اتارہ کے درجے میں پڑے ہوئے فسق و فجور کی راہوں پر کار بند ہیں ؟ نہیں۔ہرگز نہیں۔جو اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کی سچی قدر کرتے ہیں اور میری باتوں کو قصہ کہانی نہیں جانتے تو یا درکھو اور دل سے سن لو۔میں ایک بار پھر ان لوگوں کو مخاطب کر کے کہتا ہوں جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور وہ تعلق کوئی عام تعلق نہیں بلکہ بہت زبر دست تعلق ہے اور ایسا تعلق ہے کہ جس کا اثر نہ صرف میری ذات تک ) بلکہ اس ہستی تک پہنچتا ہے جس نے مجھے بھی اس برگزیدہ انسان کامل کی ذات تک پہنچایا ہے جو دنیا میں صداقت اور راستی کی روح لے کر آیا۔میں تو یہ کہتا ہوں کہ اگر ان باتوں کا اثر میری ذات تک پہنچتا تو مجھے کچھ بھی اندیشہ اور فکر نہ تھا اور نہ ان کی پروا تھی۔مگر اس پر بس نہیں ہوتی۔اس کا اثر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خود خدائے تعالیٰ کی برگزیدہ ذات تک پہنچ جاتا ہے۔پس ایسی صورت