خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 47 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 47

خطبات مسر در جلد دہم 47 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 جنوری 2012 ء اور حالت میں تم خوب دھیان دے کر سن رکھو کہ اگر اس بشارت سے حصہ لینا چاہتے ہو اور اس کے مصداق ہونے کی آرزو ر کھتے ہو اور اتنی بڑی کامیابی ) کہ قیامت تک مکفرین پر غالب رہو گے ) کی سچی پیاس تمہارے اندر ہے تو پھر اتنا ہی میں کہتا ہوں کہ یہ کامیابی اس وقت تک حاصل نہ ہوگی جب تک لقامہ کے درجہ سے گزر کر مطمئنہ کے مینار تک نہ پہنچ جاؤ۔اس سے زیادہ اور میں کچھ نہیں کہتا کہ تم لوگ ایک ایسے شخص کے ساتھ پیوند رکھتے ہو جو مامور من اللہ ہے۔پس اس کی باتوں کو دل کے کانوں سے سنو اور اس پر عمل کرنے کے لئے ہمہ تن تیار ہو جاؤ تا کہ ان لوگوں میں سے نہ ہو جاؤ جو اقرار کے بعد انکار کی نجاست میں گر کر ابدی عذاب خرید لیتے ہیں۔( ملفوظات جلد 1 صفحہ 64-65 ایڈیشن 2003 ، مطبوعہ ربوہ ) پس یہ اُن نصائح میں سے چند نصائح ہیں جو مختلف اوقات میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی جماعت کو کیں۔خوش قسمت ہیں وہ جنہوں نے براہ راست حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت سے فیض پایا اور یہ باتیں سنیں۔اور خوش قسمت ہیں ہم بھی جن تک یہ باتیں پہنچیں۔اور ہمیں اُن لوگوں کا شکر گزار ہونا چاہئے جنہوں نے یہ باتیں ہم تک پہنچائیں تا کہ ہم اپنے عہد بیعت کی حقیقت کو سمجھنے والے بن سکیں۔اُن لوگوں میں بن سکیں جو نیکیاں کرنے والے اور نیکیوں کی روح کو سمجھتے ہوئے انہیں پھیلانے والے ہوتے ہیں۔اُن لوگوں میں بن سکیں جو ہر وقت نیکیاں اختیار کرنے میں آگے قدم بڑھانے کی کوشش کرنے والے ہوتے ہیں۔ہمیں حقیقی تقویٰ کی راہ پر اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ڈالا ہے اور اُس کا فہم و ادراک بھی عطا فر مایا۔پس ہم میں سے ہر ایک کا فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ بنتے ہوئے تقویٰ پر قدم مارنے والا بنے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔اس وقت میں جمعہ کے بعد بعض جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا۔پہلا ہے ہمارے مربی سلسلہ جو مرکز میں، ربوہ میں ہی کام کر رہے تھے، مکرم شیخ محمد نعیم صاحب ابن شیخ محمد اسلم صاحب۔دنیا پور کے رہنے والے تھے۔شعبہ ترتیب ریکارڈ جو انجمن کے ریکارڈ وغیرہ کا انتظامی شعبہ ہے، یہ اس میں کام کر رہے تھے۔دفتر تشریف لائے۔وہاں کام کرتے ہوئے ان کو دل کا حملہ ہوا اور بے ہوش ہو گئے۔ہسپتال لے جایا گیا لیکن ڈاکٹروں کی پوری کوشش کے باوجود زندگی نے وفانہ کی اور وفات پاگئے۔اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گئے۔انا للہ و إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔ان کی عمر باسٹھ سال تھی اور بڑی خوش مزاج اور ہر دل عزیز شخصیت کے مالک تھے۔محنت سے کام کرنے والے تھے۔اٹھارہ سال کی عمر میں انہوں نے وصیت کی تھی۔بطور مبلغ سلسلہ سیرالیون میں خدمات سرانجام دیں۔پھر پاکستان میں