خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 510
خطبات مسر در جلد دہم 510 خطبه جمعه فرموده مورخه 24 اگست 2012 ء بات ماننے کی تھی۔کہتے ہیں انہوں نے (یعنی میاں امام دین وغیرہ نے ) جب مجھے کتاب ازالہ اوہام دیکھنے کو دی تو میں نے کتاب دیکھنے سے پہلے دعا کی کہ خداوندا! میں بالکل نادان اور بے علم ہوں۔تیرے علم میں جو حق ہے اُس پر میرے دل کو قائم کر دے۔یہ دعا ایسی جلد قبول ہوئی کہ جب میں نے ازالہ اوہام کو پڑھنا شروع کیا تو اس قدر دل کو اطمینان اور تسلی شروع ہوئی کہ حضور کی صداقت میں کوئی شک وشبہ باقی نہ رہا اور زیادہ سے زیادہ ایمان بڑھتا گیا۔اور جب پھر میں پہلی بار قادیان میں حضور کی زیارت کو میاں خیر الدین کے ساتھ آیا اور حضور کی زیارت کی تو میرے دل نے ایسی اطمینان اور تسلی کی شہادت دی کہ یہ شکل جھوٹ بولنے والی اور فریب والی نظر نہیں آتی۔چنانچہ اُس وقت میں نے میاں خیر الدین صاحب کو کہا کہ اول تو میں نے حضور کی نسبت کوئی لفظ بے ادبی اور گستاخی کا کبھی نہیں کہا اور اگر خدانخواستہ کبھی ایسا ہو گیا ہو تو میں تو بہ کرتا ہوں۔یہ شکل جھوٹ بولنے والے کی نہیں“۔(ماخوذ از رجسٹر ز روایات صحابہ ( غیر مطبوعہ ) رجسٹر نمبر 5 صفحہ 69۔روایت حضرت میاں عبد العزیز صاحب ) اور یہی پھر ان کی بیعت کا ذریعہ بن گئی۔اصل چیز یہی نیک نیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگی جائے اور اسی کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بار ہا ارشاد فرمایا ہے کہ میری کتابیں نیک نیتی سے پڑھو۔پڑھتے تو یہ مولوی لوگ بھی ہیں لیکن اعتراض کرنے کے لئے اور ان کے ذہنوں میں سوائے گندی ذہنیت کے اور کچھ نہیں ہوتا۔جب قرآن کریم بھی یہ دعویٰ کرتا ہے، اعلان کرتا ہے کہ اس کی سمجھ پاک ہونے والوں کو ہی آئے گی تو پھر باقی اور کسی کتاب کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔بہر حال ان مولویوں کا یہ حال جو آج سے سو سال پہلے یا ڈیڑھ سو سال پہلے یا ہمیشہ سے تھا وہ آج بھی ہے۔حضرت ڈاکٹر محمد عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ ” میری عمر قریباً اٹھارہ یا انیس برس کی تھی جبکہ دسمبر 1903ء میں خواب میں میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت کی۔اس سے پہلے میں نے حضور کو کبھی نہیں دیکھا تھا۔حضور نے دریافت فرمایا کہ تم کس کے مرید ہو؟ میں نے عرض کیا کہ جناب ! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرید ہوں۔اس کے بعد مجھے آئینہ کمالات اسلام اور تریاق القلوب پڑھنے کا اتفاق ہوا جن کے مطالعہ سے میری طبیعت کا رجوع سلسلہ احمدیہ کی طرف ہوا۔1906ء میں میں نے استخارہ کیا۔گوجرہ ضلع لائل پور میں میری ملازمت تھی۔صبح کی نماز کے بعد مجھے کشفی طور پر معین بیداری کی حالت میں سیڑھیاں دکھائی گئیں۔ہر ایک سیڑھی پر بورڈ گا ہوا تھا۔آخری سیڑھی کے درمیان سرخ زمین پر سفید لفظوں میں ایک بورڈ نظر آیا جس پر موٹے حروف میں لکھا ہوا تھا۔مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود“۔( کہتے ہیں)