خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 509
خطبات مسرور جلد دہم 509 خطبه جمعه فرموده مورخه 24 اگست 2012 ء تشریف لے گئے۔ہم بھی آکر سور ہے۔آپس میں باتیں کرتے رہے کہ یہ کیا بھید ہے؟ ہمارا مولوی تو قرآن اُٹھا کر اور خدا کی قسم کھا کر کہتا تھا اور یہاں معاملہ برعکس نکلا۔خیر صبح ہم لوگ اٹھے تو ارادہ یہ ہوا کہ مولوی نورالدین صاحب سچ بولیں گے، ان سے دریافت کرتے ہیں کہ یہی مرزا صاحب ہیں یا کوئی اور۔جب اُن کے مطب میں گئے تو ایک مولوی صاحب نے اعتراض پیش کیا کہ پہلے جتنے نبی ولی گزرے ہیں وہ تو کئی کئی فاقوں کے بعد بالکل سادہ غذا کھاتے تھے اور مرزا صاحب سنا ہے کہ پلاؤ زردہ بھی کھاتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول نے ان کو جواباً کہا کہ مولوی صاحب! میں نے قرآن مجید میں زردہ اور پلاؤ کو حلال ہی پڑھا ہے۔اگر آپ نے کہیں دیکھا ہے کہ حرام ہے تو بتا دیں۔اس مولوی نے تھوڑی دیر جو سکوت کیا تو میں نے جھٹ وہ اشتہار نکال کر مولوی صاحب کے آگے رکھا کہ ہمارا ایک مولوی قسم بھی قرآن کی اُٹھا کر کہتا تھا کہ مرزا نعوذ باللہ کوڑھی ہو گئے ہیں اور ہم کو جو بتایا گیا ہے کہ یہی مرزا صاحب ہیں وہ تو تندرست ہیں۔آپ بتائیں کہ یہی مرزا صاحب ہیں جن کو ہم نے نماز میں دیکھا ہے یا کوئی اور۔تو خلیفہ اول نے بھی جھٹ جیب میں ہاتھ ڈال کر وہی اشتہار نکال کر بتلایا کہ دیکھو ہم کو تمہارے مولویوں نے یہ اشتہا رروانہ کیا ہے۔اب یہ مرزا ہے اور وہ تمہارے مولوی جس نے قرآن ہاتھ میں پکڑ کر جھوٹ بولا۔جس کو چاہوسچا مان لو۔بس پھر کیا تھا میرے آنسو نکل گئے۔میں نے دل میں کہا کہ کمبخت اب بھی تو بیعت نہ کرے گا۔واقعی یہ مولوی زمانے کے دجال ہیں۔ہم تینوں نے ظہر کے وقت حضور کی خدمت میں عرض کی کہ ہم کو بیعت میں لے لیں۔حضور نے کہا جلدی مت کرو۔کچھ دن ٹھہرو۔ایسا نہ ہو کہ پھر مولوی تم کو پھسلا دیں اور تم زیادہ گناہگار ہو جاؤ۔میں نے رو رو کر عرض کی کہ حضور! میں تو اب کبھی پھسلنے کا نہیں۔خیر دوسرے روز ہم تینوں نے بیعت کر لی اور گھر واپس آگئے۔(ماخوذ از رجسٹر ز روایات صحابہ (غیر مطبوعہ ) رجسٹر نمبر 5 صفحہ 45 تا 49 - روایت حضرت نظام الدین ٹیلر صاحب) حضرت میاں عبدالعزیز صاحب کی روایت ہے کہ "جب 1891ء میں میری تبدیلی حلقہ سیکھواں میں ہوئی اور میاں جمال الدین صاحب اور میاں امام الدین صاحب ومیاں خیر دین صاحب سے واقفیت ہوئی تو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کا دعویٰ مسیحیت اور مہدویت کا ذکر کیا تو چونکہ میرے دل میں حضور کی نسبت کوئی بغض اور عداوت نہ تھا ، میں نے اُن کے کہنے کو بُرا نہ منایا۔صرف یہ خیال آیا کہ مولوی لوگ کیوں ایسا کہتے ہیں؟ اس کی وجہ بھی یہ تھی کہ خاکسار کے آباؤ اجدادا کثر مولوی لوگوں سے بوجہ اپنے دیندار ہونے کے محبت رکھا کرتے تھے اور یہی وجہ خاکسار کی بھی مولویوں سے ان کی