خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 504
خطبات مسرور جلد دہم 504 خطبه جمعه فرموده مورخه 17 اگست 2012 ء بچوں سے کھیلنے کا ذکر بھی روایات میں ملتا ہے۔اکثر ماں باپ اپنے بچوں سے تو پیار کرتے ہیں لیکن بعض ایسے بھی ہیں جو بچوں کو بلا وجہ سزا دیتے ہیں۔ابھی چند دن پہلے ہی مجھے ایک نو جوان ملاجس نے کہا کہ میں ہر وقت خوفزدہ رہتا ہوں اور ڈپریشن کا مریض ہوں، وہ نفسیاتی مریض بن گیا تھا۔) اس لئے کہ میرا باپ مجھے ہر وقت مارتا رہتا تھا۔اور جب اُسے کسی نے پوچھا کہ کیوں بعض دفعہ بلا وجہ مارتے ہو تو کہتا ہے کہ بچوں پر رعب ڈالنے کے لئے ضروری ہے۔تو یہ بھی بعض والدین کا حال ہے۔ایسے بھی ظالم باپ ہوتے ہیں۔بلکہ یہاں تو ہم دیکھتے ہیں کہ آجکل خبروں میں کچھ زیادہ ہی ایسے واقعات آنے لگ گئے ہیں کہ ایسے ماں باپ بھی ہیں جو اپنی ذاتی عیاشیوں کے لئے اپنے بچوں کو قتل کر دیتے ہیں۔پھر ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے بچوں کو تو پیار کر لیتے ہیں لیکن دوسروں کے بچے اُن کو برداشت نہیں ہوتے ، اُن کو پیار نہیں کرتے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ہر بچہ کے ساتھ پیار اور شفقت کا تھا۔ہمسایوں سے حسن سلوک کا اگر قرآنِ کریم میں حکم ہے تو اس کے بھی اعلیٰ نمونے آپ نے قائم فرمائے اور بار بار اپنے ماننے والوں کو اس کی نصیحت فرمائی ہے۔ایک دفعہ آپ تشریف فرما تھے۔فرمایا خدا کی قسم وہ ہرگز مومن نہیں ، وہ ہر گز مومن نہیں ہے ، وہ ہرگز مومن نہیں ہے۔صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! کون مومن نہیں ہے؟ فرمایا وہ جس کا ہمسایہ اُس کے ضرر اور بدسلوکی سے محفوظ نہیں ہے۔(صحيح البخارى كتاب الادب باب اثم من لا يأمن جاره بوائقه حدیث 6016) پس یہ چند باتوں کا میں نے ذکر کیا ہے۔رشتہ داروں سے حسنِ سلوک ہو یا تعاون با ہمی کا معاملہ ہو یا چشم پوشی کا معاملہ ہو یا تجسس سے بچنے کا معاملہ ہو۔نیک ظنی کا معاملہ ہو یا کسی بھی اعلیٰ اخلاق کا ، آپ کے نمونے اور آپ کی نصائح ہمیں ہر جگہ ملتی ہیں۔پس یہ عبد کامل تھا جس نے ہر معاملہ میں کامل نمونہ دکھا کر ایک انقلاب اُس زمانے کے جاہل لوگوں میں پیدا کر دیا اور انہیں باخدا انسان بنا دیا۔پس آج بھی اگر ہم نے ان برکات سے فائدہ اُٹھانا ہے جو آپ کی امت میں آنے سے وابستہ ہیں اور عبد بنے کا حق ادا کرنا ہے تو اپنے آپ کو اس اسوہ پر چلانا ہوگا تا کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بن کر ہم اپنی دنیاو عاقبت سنوار سکیں۔اس لئے آج بھی اور رمضان کے جو بقیہ دو تین دن ہیں اُن میں بھی دعائیں کریں کہ دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے اور زندگی بھر دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی مومن بنائے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر ہم چلنے والے ہوں۔آخر میں میں پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض اقتباسات رکھتا ہوں۔