خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 45
خطبات مسرور جلد دہم 45 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 جنوری 2012ء اور راحت عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔دیکھو دراصل ربنا کے لفظ میں تو بہ ہی کی طرف ایک بار یک اشارہ ہے کیونکہ ربنا کا لفظ چاہتا ہے کہ وہ بعض اور رتبوں کو جو اُس نے پہلے بنائے ہوئے تھے“ (یعنی انسان نے جو کوئی اپنے رب بنائے ہوئے ہیں اُن سے بیزار ہو کر اس رب کی طرف آیا ہے۔اور یہ لفظ حقیقی در داور گداز کے سوا انسان کے دل سے نکل ہی نہیں سکتا۔رب کہتے ہیں بتدریج کمال کو پہنچانے والے اور پرورش کرنے والے کو۔اصل میں انسان نے اپنے بہت سے ارباب بنائے ہوئے ہوتے ہیں۔اپنے حیلوں اور دغابازیوں پر اُسے پورا بھروسہ ہوتا ہے تو وہی اُس کے رب ہوتے ہیں۔اگر اُسے اپنے علم کا یا قوت بازو کا گھمنڈ ہے تو وہی اُس کے رب ہیں۔اگر اُسے اپنے حسن یا مال یا دولت پر فخر ہے تو وہی اُس کا رب ہے۔غرض اس طرح کے ہزاروں اسباب اُس کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔جب تک اُن سب کو ترک کر کے اُن سے بیزار ہو کر اس واحد لاشریک، بچے اور حقیقی رب کے آگے سر نیاز نہ جھکائے اور ربنا کی پر درد اور دل کو پگھلانے والی آوازوں سے اُس کے آستانے پر نہ گرے تب تک وہ حقیقی رب کو نہیں سمجھا۔پس جب ایسی دل سوزی اور جاں گدازی سے اُس کے حضور اپنے گناہوں کا اقرار کر کے تو بہ کرتا اور اُسے مخاطب کرتا ہے کہ ربنا یعنی اصلی اور حقیقی رب تو تو ہی تھا۔مگر ہم اپنی غلطی سے دوسری جگہ بہکتے پھرتے رہے۔اب میں نے اُن جھوٹے بتوں اور باطل معبودوں کو ترک کر دیا ہے۔اور صدق دل سے تیری ربوبیت کا اقرار کرتا ہوں۔تیرے آستانے پر آتا ہوں۔غرض بجز اس کے خدا کو اپنا رب بنانا مشکل ہے۔( یہ حالت ہوگی تو تبھی حقیقی رب اللہ بن سکتا ہے۔( جبتک انسان کے دل سے دوسرے رب اور اُن کی قدرومنزلت و عظمت و وقار نکل نہ جاوے تب تک حقیقی رب اور اُس کی ربوبیت کا ٹھیکہ نہیں اٹھاتا۔بعض لوگوں نے جھوٹ ہی کو اپنا رب بنایا ہوا ہوتا ہے۔وہ جانتے ہیں کہ ہمارا جھوٹ کے بڑوں گزارا مشکل ہے۔بعض چوری و راہزنی اور فریب دہی ہی کو ہی اپنا رب بنائے ہوئے ہیں۔اُن کا اعتقاد ہے کہ اس راہ کے سوا اُن کے واسطے کوئی رزق کا راہ ہی نہیں۔سو اُن کے ارباب وہ چیزیں ہیں۔دیکھو ایک چور جس کے پاس سارے نقب زنی کے ہتھیار موجود ہوں ، اور رات کا موقع بھی اُس کے مفید مطلب ہے اور کوئی چوکیدار وغیرہ بھی نہیں جاگتا ہے تو ایسی حالت میں وہ چوری کے سوا کسی اور راہ کو بھی جانتا ہے جس سے اُس کا رزق آسکتا ہے۔وہ اپنے ہتھیاروں کو ہی اپنا معبود جانتا ہے۔غرض ایسے لوگ جن کو اپنی ہی حیلہ بازیوں پر اعتماد اور بھروسہ ہوتا ہے اُن کو خدا سے استعانت اور دعا کرنے کی کیا حاجت ؟۔“ ( وہ تو اپنی چیزوں کو ہی اپنا رب سمجھیں گے )۔فرمایا کہ دعا کی حاجت تو اُسی کو ہوتی ہے جس کے سارے راہ بند ہوں اور کوئی راہ سوائے اُس۔