خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 498
خطبات مسر در جلد دہم 498 خطبه جمعه فرموده مورخه 17 اگست 2012 ء پہنچانے کی ضرورت ہے۔اپنی طاقتوں کے مطابق ہر بندہ اندازہ لگائے ، ہر شخص اندازہ لگائے اور جب یہ ہوگا تو تب ہی ہر شخص کہ سکتا ہے کہ میں اُسوہ حسنہ پر چلنے کی کوشش کر رہا ہوں۔عبادتوں اور شکر گزاری کے معیار ہم نے دیکھے جس کے نمونے آپ نے ہمارے سامنے قائم فرمائے ، اور جو میں نے بیان کئے ہیں۔لیکن اس کے باوجود ایک موقع پر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ کوئی شخص اپنے عملوں سے جنت میں داخل نہیں ہوگا۔تو حضرت ابو ہریرۃ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! کیا آپ بھی اپنے اعمال سے جنت میں داخل نہیں ہوں گے؟ آپ تو ساری ساری رات عبادت کرنے والے ہیں۔ایسی فنا کی حالت ہوتی ہے کہ پاؤں متورم ہو جاتے ہیں۔آپ نے فرمایا۔ہاں میں بھی اپنے اعمال کے زور سے جنت میں داخل نہیں ہو سکتا۔ہاں خدا تعالیٰ کا فضل اور اُس کی رحمت ہی مجھے جنت میں داخل کرے گی۔یہ کیا ہی خوف اور خشیت کی حالت ہے۔وہ لوگ جو ذرا ذراسی نیکی پر اتراتے پھرتے ہیں اُن کے لئے کس قدر خوف کا مقام ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی مغفرت کی اور فضل کی چادر میں ڈھانپے رکھے اور ہمیں حقیقت میں عبادت کا حق ادا کرنے کی توفیق دے اور عاجزی اور انکساری کی بھی توفیق دے۔آپ نے فرمایا: ” اپنے کاموں میں نیکی اختیار کرو اور خدا تعالیٰ کے قرب کی راہیں تلاش کرو“۔فرمایا کہ کوئی شخص موت کی خواہش نہ کیا کرے کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو نیکیوں میں بڑھے گا اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث ہوگا اور اگر بد ہے تو تو بہ کی تو فیق مل جائے گی۔(صحیح البخارى كتاب المرضى باب تمنى المريض الموت حدیث 5673) یہ تو بہ کی توفیق بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہی ملتی ہے۔اس کے لئے بھی دعا کرنی چاہئے ورنہ دنیا میں اکثریت تو ایسے لوگوں کی ہے جو برائیوں میں مبتلا ہیں اور اس میں بڑھتے چلے جاتے ہیں۔یہ جو آپ نے فرمایا یہ مومنوں کے لئے فرمایا اور ان معمولی بدیوں کے بارے میں فرمایا کہ پھر اپنی کمزوریاں دور کرنے کی توفیق ملے گی۔پس رمضان میں بھی انسان کوشش کرتا ہے کہ اپنی کمزوریاں دور کرے، بدیوں کو دور کرے، تو اس لئے بھی اس کوشش میں بڑھنا چاہئے اور پھر اس کو جاری بھی رکھنا چاہئے۔آپ کا یہ فرمانا اُن لوگوں کے لئے ہے جو تو بہ کی طرف توجہ کریں اور پھر توجہ کر کے نیکیوں میں بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ دعا کرتے ہیں کہ موت تو مقدر ہے لیکن اُس وقت آئے جب اے اللہ! تو راضی ہو۔آپ نے فرمایا کہ اپنی صلاحیتوں اور اللہ تعالیٰ کے انعامات کا صحیح استعمال نہ کرنا بھی گستاخی ہے۔اور ان صلاحیتوں کا صحیح استعمال جو ہے وہ اب عبادت میں ہے۔یا کہہ سکتے ہیں کہ ان صلاحیتوں کا صحیح استعمال جو ہے وہ بھی عبادت ہے۔