خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 497 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 497

خطبات مسرور جلد دہم 497 خطبه جمعه فرموده مورخه 17 اگست 2012 ء کے فضلوں اور احسانوں کو یاد کرتے تھے اور شکر ادا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ کا ہم پر یہ احسان ہے کہ نہ صرف ہمیں مسلمان بنایا بلکہ آپ کے غلام صادق کو آپ کا سلام پہنچانے کی توفیق بھی عطا فرمائی ہے۔یہی احسان اتنا بڑا ہے کہ اس کا ہم شکر ادا نہیں کر سکتے۔ایک احمدی اس کا بھی شکر ادا نہیں کر سکتا۔جو بھی کوشش ہو تب بھی ہم اس کا شکر ادا نہیں کر سکتے۔پس ہر احمدی کی یہ کوشش ہونی چاہئے کہ ہم اپنی اپنی بساط اور استعداد کے مطابق اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں۔رمضان میں جو نفلوں کی عادت ڈالی ہے تو یہ عارضی عادت نہ ہو اور ہمارے دنیوی مقاصد کے لئے نہ ہو بلکہ خدا تعالیٰ کی شکر گزاری کا اکثر حصہ اس میں ہو اور پھر اس عبادت کا اثر ہمارے قول و فعل کی سچائی پر بھی ظاہر ہو۔ہم خیر امت بن کر جب دنیا کی اصلاح کی کوشش کریں گے تو ہماری باتوں میں بھی تبھی اثر ہو گا جب ہماری یہ حالت ہوگی۔جیسا کہ میں نے کہا یہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ اُسوہ ہے جو نفلوں کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ کس طرح رات کو عبادت کرتے تھے۔فرض نمازوں کی پابندی کا بھی آپ کو کتنا خیال تھا۔سخت شدید بیماری میں بھی جبکہ نمازیں بیٹھ کر اور لیٹ کر اور گھر میں پڑھنے کی اجازت ہے، آپ سہارے لے کر مسجد میں باجماعت نماز کی ادائیگی کے لئے تشریف لاتے تھے۔(صحیح البخاری کتاب الاذان باب انما جعل الامام ليؤتم به حديث (687) لیکن ان سب باتوں کے باوجود کہ عبادت کے بارے میں اتنی سختی ہے، اتنی شدت ہے، اور آپ نے عبادت کو اتنی اہمیت دی ہے۔لیکن عبادت کے بارے میں آپ کو تصنع اور بناوٹ پسند نہیں تھی۔جب آپ نے گھر میں رہی لٹکی ہوئی دیکھی اور اُس کا مقصد پوچھا تو پتہ چلا کہ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا جب عبادت کرتے کرتے تھک جاتی ہیں تو اس رتی کے سہارے کھڑی ہو جاتی ہیں تو آپ نے یہ نا پسند فرمایا اور فرمایا جتنی دیر خوشی سے، بشاشت سے، آسانی سے عبادت ہو سکے کرو۔جب تھک جاؤ تو بیٹھ جاؤ۔(صحیح البخاری کتاب التهجد باب ما يكره من التشديد في العبادة حديث 1150) آپ کو تو خدا تعالیٰ نے اتنی طاقت عطا فرمائی تھی کہ پاؤں متورم ہو جائیں تب بھی کھڑے رہیں لیکن دوسروں کے لئے آپ نے سہولت بھی دی ہے۔لیکن اس سہولت کا یہ مطلب بھی نہیں ہے جیسا کہ بعض لوگوں کو عادت ہو جاتی ہے کہ صرف بیٹھ کر نمازیں پڑھتے ہیں۔بعضوں کو عادت ہے کہ صبح فجر کی نماز پر اُٹھے، بغیر وضو کے بستر پر ہی لیٹے لیٹے تیم کیا اور بیٹھے بیٹھے نماز پڑھ لی، یہ چیز میں بھی غلط ہیں۔اس طرح سے ناجائز فائدہ بھی نہیں اُٹھانا چاہئے کیونکہ پھر یہ عبادت نہیں ہے۔اپنی طاقتوں اور استعدادوں کو انتہا تک