خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 496 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 496

خطبات مسر در جلد دہم 496 خطبه جمعه فرموده مورخه 17 اگست 2012 ء بھی انقلاب پیدا کریں گے۔تبھی ہم اسلام کا حقیقی پیغام بھی دنیا تک پہنچا سکیں گے۔پس بیشک گنہ گار بھی اللہ تعالیٰ کا ایک عبد بن سکتا ہے۔لیکن اسوہ رسول پر چلنے سے اور اس کے لئے کوشش کرنے سے اور اپنی تمام تر طاقتوں سے اس کی کوشش کرنے سے اس کے تمام گناہ معاف ہو سکتے ہیں۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مختلف پہلو ہیں۔آپ کا اسوہ ہے جس کی پیروی کا خدا تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے اور جس کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بیان فرمایا ہے کہ کس طرح اور کس حد تک انسان حاصل کر سکتا ہے۔اور اس اُسوہ پر چلنے سے پھر اللہ تعالیٰ کی محبت بھی ملتی ہے جس سے بندہ اپنے پیار کرنے والے خدا کی آغوش میں آ جاتا ہے۔سب سے پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ سے محبت، اُس کی شکر گزاری اور اس کی عبادت کے کیا نمونے آپ نے قائم فرمائے ہیں۔وہ عظیم نبی جو تمام دن حکومتی معاملات اور اپنے ماننے والوں کی اصلاح اور تربیت اور اُن کو روحانی ترقی کی راہیں دکھانے میں مصروف رہتا تھا۔عام دنوں میں بھی آپ کی مصروفیت ہوتی تھی اور جنگوں میں اور ہنگامی حالات میں تو دن کی مصروفیت کے ساتھ ساتھ آپ کی جسمانی مشقت کی بھی انتہا ہو جاتی تھی۔لیکن ہمیں نہ آپ کی دن کی عبادتوں میں اور نہ ہی رات کی عبادتوں میں کوئی رخنہ نظر آتا ہے۔رات کو عبادت کے لئے کھڑے ہوتے تھے تو پاؤں سوج جاتے تھے۔(صحيح البخارى كتاب التفسير باب قوله ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبک۔۔۔حدیث 4836) اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ رات کو عبادت کرو۔آپ کی رات کی عبادت نصف رات سے بڑھ کر بھی تھی اور نصف رات کی بھی تھی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِن نَاشِئَةَ الْيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْأً وَأَقْوَمُ قِيلًا (المزمل: 7) کہ رات کو جا گنا یقینا نفس کو پاؤں تلے کچلنے کے لئے شدید اور قولی لحاظ سے زیادہ مضبوط ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ایک دفعہ عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔آپ تو پہلے ہی خدا تعالیٰ کے مقرب ہیں۔آپ اپنے نفس کو اتنی تکلیف میں کیوں ڈالتے ہیں؟ فرمایا اے عائشہ! أَفَلَا اكُوْنَ عَبْدًا شَكُورًا۔(صحیح مسلم کتاب صفات المنافقين و احكامهم باب اكثار الاعمال۔۔۔حدیث 7125) کہ اگر میں اللہ تعالیٰ کا مقرب ہوں اور اللہ تعالیٰ نے اتنے فضل فرمائے ہیں تو پھر کیا میرا یہ فرض نہیں بنتا کہ اس کا شکر گزار بندہ بن جاؤں۔شکر تو احسان کے مقابلے پر ہوا کرتا ہے۔اور آپ ہمیشہ اللہ تعالیٰ۔