خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 495
خطبات مسرور جلد دہم 495 خطبه جمعه فرموده مورخه 17 اگست 2012 ء فرمایا’ اور انسانی حقیقت اپنے اندر چھ سو بیضہ کی استعداد رکھتی ہے“۔یہ نہیں ہے کہ کوئی مشکل چیز ہے۔انسان کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے یہ طاقت دی ہے کہ اگر وہ چاہے اور کوشش کرے تو ان احکامات کو اپنے او پر طاری کرنے کی طاقت رکھتی ہے، استعداد رکھتی ہے۔فرمایا ”پس جس شخص کا چھ سو بیضہ استعداد جبرائیل کے چھ سو پر کے نیچے آ گیا وہ انسان کامل اور یہ تولد اس کا تولد کامل اور یہ حیات حیات کامل ہے“۔یعنی یہ چیزیں حاصل ہو جا ئیں تو تبھی حقیقی روحانی پیدائش بھی ہوتی ہے اور حقیقی روحانی زندگی بھی ملتی ہے۔پس ان چھ سو احکامات کو اپنے اوپر لاگو کرنے کی کوشش کرو۔فرمایا کہ اور غور کی نظر سے معلوم ہوتا ہے کہ بیضہ بشریت کے روحانی بچے جو روح القدس کی معرفت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت کی برکت سے پیدا ہوئے وہ اپنی کمیت اور کیفیت اور صورت اور نوع اور حالت میں تمام انبیاء کے بچوں سے اتم اور اکمل ہیں۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے انسان کے اندر جو یہ روحانی بچے پیدا ہوئے ہیں، جو روحانی صفات پیدا ہوئی ہیں وہ اپنی کمیت کے حساب سے بھی ، اپنی کیفیت کے حساب سے بھی ، اپنی شکل صورت کے حساب سے بھی ، اپنی نوع اور قسم کے حساب سے بھی ، ہر حالت میں دوسرے انبیاء کے ذریعے سے جو روحانی انقلاب آیا اُس سے بہت بڑھ کر ہیں۔اور فرماتے ہیں’ اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (آل عمران: 111) یعنی تم سب اُمتوں سے بہتر ہو جولوگوں کی اصلاح کے لئے پیدا کئے گئے ہو۔آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 195 تا 197) جب خیر امت قرار دیا گیا، جیسا کہ اکثر ہم تقریروں میں ”خیر امت سنتے ہیں تو اس خیر امت بننے کے لئے ضروری ہے کہ اپنے اندر وہ تمام روحانی انقلاب پیدا کرنے کی کوششیں کی جائیں، وہ حالتیں طاری کرنے کی کوششیں کی جائیں جن کی ہمیں تعلیم دی گئی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کا ذکر فرمایا۔قرآن کریم میں جن کا ذکر ہے۔اور پھر جب اس طرح اپنی اصلاح ہوگی ، جب اس مقام پر انسان پہنچے گا تو پھر ہی دوسروں کی اصلاح کا کام کر سکتے ہیں۔اور یہ اصلاح کا کام پھر بار آور ہوتا ہے تبھی یہ پھل لگاتا ہے جب اس اسوہ رسول پر ہم چلنے کی کوشش کریں گے، اپنی زندگیاں اس کے مطابق ڈھالیں گے، اپنے جائزے ہر وقت لیتے رہیں گے، اپنی روحانی ترقی کی طرف قدم بڑھاتے رہیں گے یا بڑھانے کی کوشش کرتے رہیں گے۔یہ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جو احکامات دیئے ہیں ہم کہاں اور کن معاملات میں اور کس طرح اور کس حد تک اُن پر عمل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔تو بھی ہم اپنے اندر