خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 493
خطبات مسرور جلد دہم 493 خطبه جمعه فرموده مورخه 17 اگست 2012 ء پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ ماحصل اس آیت کا یہ ہے ( اس آیت کا خلاصہ یہ بنے گا یا اصل مضمون یہ بنے گا، مقصد یہ بنے گا) کہ جو لوگ دل و جان سے تیرے، یارسول اللہ ! غلام بن جائیں گے۔ان کو وہ نور ایمان اور محبت اور عشق بخشا جائے گا کہ جو اُن کو غیر اللہ سے رہائی دے دے گا اور وہ گناہوں سے نجات پا جائیں گے اور اسی دنیا میں ایک پاک زندگی ان کو عطا کی جائے گی، اور نفسانی جذبات کی تنگ و تاریک قبروں سے وہ نکالے جائیں گے“۔(اب رمضان کا ایک مقصد خدا تعالیٰ کی رضا چاہنا ، اُس کا بننا، اُس کی عبادت کرنا بھی ہے۔اور یہی غیر اللہ سے نجات ہے تو اس کو پورا کرنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کی پیروی ضروری ہے۔فرمایا کہ ” اور اسی دنیا میں ایک پاک زندگی ان کو عطا کی جائے گی اور نفسانی جذبات کی تنگ و تاریک قبروں سے وہ نکالے جائیں گے“۔(جو یہ پیروی کریں گے ) اسی کی طرف یہ حدیث اشارہ کرتی ہے۔آنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِن یعنی میں وہ مردوں کو اٹھانے والا ہوں جس کے قدموں پر لوگ اٹھائے جاتے ہیں“۔( قدموں پر اٹھائے جانے کا یہی مطلب ہے کہ میری پیروی کرنے والے ہیں، میرے نقشِ قدم پر چلنے والے ہیں ) فرماتے ہیں ” واضح ہو کہ قرآن کریم اس محاورہ سے بھرا پڑا ہے کہ دنیا مر چکی تھی اور خدا تعالیٰ نے اپنے اس نبی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیج کر نئے سرے دنیا کو زندہ کیا۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے اعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا (الحدید : 18) یعنی اس بات کو سن رکھو کہ زمین کو اس کے مرنے کے بعد خدا تعالیٰ زندہ کرتا ہے۔پھر اسی کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے حق میں فرماتا ہے وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحِ مِنْهُ (المجادلہ: 23) یعنی ان کو روح القدس کے ساتھ مدد دی۔اور روح القدس کی مدد یہ ہے کہ دلوں کو زندہ کرتا ہے اور روحانی موت سے نجات بخشتا ہے اور پاکیزہ قو تیں اور پاکیزہ حواس اور پاک علم عطا فرماتا ہے اور علوم یقینیہ اور براہین قطعیہ سے خدا تعالیٰ کے مقام قرب تک پہنچا دیتا ہے۔“ آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 193 تا195) روحانی موت سے نجات کیا ہے؟ یہ دنیاوی خواہشات کو قربان کرنے کا نام ہے۔یہ اپنے نفس کو قربان کرنے کا نام ہے، جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں بار بار توجہ دلائی ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم کرنے کا نام ہے۔پس صحابہ رضوان اللہ علیہم نے یہ سب کچھ کیا تو اللہ تعالیٰ نے اُن کے دلوں کو روحانی زندگی عطا فرمائی۔اُن کو پاکیزہ قو تیں عطا فرمائیں جن سے انہوں نے شیطان کا مقابلہ کیا۔اُن کی