خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 492
خطبات مسر در جلد دہم 492 خطبه جمعه فرموده مورخه 17 اگست 2012 ء مفہوم دونوں کا ایک ہے ) ” کیونکہ کمال اتباع اس محویت اور اطاعت تامہ کو مستلزم ہے ( یعنی جو کسی کی پیروی کا اور اتباع کا جو انتہا ہے، وہ مکمل طور پر اطاعت کے لئے لازمی ہے، اطاعت ہوگی تو اتباع ہوگی، پیروی ہوگی ) فرمایا کہ ” جو عبد کے مفہوم میں پائی جاتی ہے“۔(پورا فقرہ یوں بنے گا کہ ) ” کیونکہ کمال اتباع اس محویت اور اطاعت تامہ کو مستلزم ہے جو عبد کے مفہوم میں پائی جاتی ہے۔یہی سر ہے کہ جیسے پہلی آیت میں مغفرت کا وعدہ بلکہ محبوب الہی بنے کی خوشخبری ہے گویا یہ آیت کہ قُل يُعِبَادِی دوسرے لفظوں میں اس طرح پر ہے کہ قُلْ يَا مُتَّبِعِی۔یعنی اے میری پیروی کرنے والو جو بکثرت گناہوں میں مبتلا ہورہے ہو ، رحمت الہی سے نومید مت ہو کہ اللہ جل شانہ بہ برکت میری پیروی کے تمام گناہ بخش دے گا۔اور اگر عباد سے صرف اللہ تعالیٰ کے بندے ہی مراد لئے جائیں تو معنے خراب ہو جاتے ہیں کیونکہ یہ ہرگز درست نہیں کہ خدا تعالیٰ بغیر تحقق شرط ایمان اور بغیر تحقق شرط پیروی تمام مشرکوں اور کافروں کو یونہی بخش دیوئے۔یعنی اگر ایمان میں کامل نہیں ہے اور پیروی اور اتباع میں کامل نہیں ہے تو بخشا نہیں جا سکتا ، پھر تو اللہ تعالیٰ مشرکوں کو اور کافروں کو یونہی بخش دے گا۔فرمایا ” ایسے معنے تو نصوص بینہ قرآن سے صریح مخالف آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 189 تا 193 ) پس یہ خوشخبری ہر اُس شخص کے لئے ہے جو کہ کامل اطاعت کرتا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیں۔پیروی کرتا ہے کہ اس کامل پیروی سے شدید ترین گناہ بھی دھل جاتے ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا اب میں اُسوہ کے نمونے پیش کروں گا۔اس رمضان میں خدا تعالیٰ نے جو ایسا ماحول پیدا فرمایا ہے اور ہر سال جب رمضان آتا ہے تو جو ماحول پیدا ہوتا ہے اور نیکیوں اور عبادتوں کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے اور اب بھی ہوئی ہے تو اگر حقیقت میں خدا تعالیٰ کا عبد اور پیارا بننا ہے تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کی پیروی کو جاری رکھنا بھی ضروری ہے۔یہی نہیں کہ ایک دفعہ عمل کر لیا۔آپ کا عمل یا نمونہ کسی ایک چیز کے بارے میں نہیں تھا، نہ ہی رمضان کے لئے مخصوص تھا بلکہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بقول كَانَ خُلُقُهُ القرآن تھا اور تمام زندگی پر حاوی تھا۔آپ کا خلق قرآن عظیم تھا۔(مسنداحمد بن حنبل مسند عائشة من الله جلد 8 صفحه 144-145 حدیث نمبر 25108) پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو فرمایا کہ اس سے گناہوں سے دل شکستوں کو امید کی کرن دکھائی دیتی ہے تو وہ تبھی ہے جب اس اُسوہ پر عمل کا مصمم ارادہ ہو اور پھر نہ صرف ارادہ ہو بلکہ عمل بھی ہو اور پھر با قاعدگی بھی ہو۔