خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 491 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 491

خطبات مسرور جلد دہم 491 خطبه جمعه فرموده مورخه 17 اگست 2012 ء کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کس قدر وسیع ہے اور کس طرح انعامات سے نوازتا ہے۔) فرمایا ” سو اس نے قُلْ يُعِبَادِی کے لفظ سے یہ ظاہر کیا کہ دیکھو یہ میرا پیارا رسول، دیکھو یہ برگزیدہ بندہ کہ کمال طاعت سے کس درجہ تک پہنچا کہ اب جو کچھ میرا ہے وہ اس کا ہے۔جو شخص نجات چاہتا ہے وہ اس کا غلام ہو جائے۔یعنی ایسا اس کی طاعت میں محو ہو جاوے کہ گویا اس کا غلام ہے۔تب وہ گو کیسا ہی پہلے گنہ گار تھا بخشا جائے گا۔فرمایا کہ جاننا چاہئے کہ عبد کا لفظ لغت عرب میں غلام کے معنوں پر بھی بولا جاتا ہے۔جیسا کہ اللہ جلشانہ فرماتا ہے وَلَعَبْدُ مُؤْمِنْ خَيْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ (البقرة: 222) اور اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو شخص اپنی نجات چاہتا ہے وہ اس نبی سے غلامی کی نسبت پیدا کرے۔یعنی اس کے حکم سے باہر نہ جائے اور اس کے دامن طاعت سے اپنے تئیں وابستہ جانے جیسا کہ غلام جانتا ہے“۔( یعنی اس طرح اطاعت کرو اس نبی کی جس طرح ایک غلام اپنے مالک کی اطاعت کرتا ہے ) ” تب وہ نجات پائے گا“۔فرمایا ”اس مقام میں ان کو ر باطن نام کے موحدوں پر افسوس آتا ہے ( بعض لوگ کہتے ہیں کہ بعض نام نہیں رکھنے چاہئیں ) کہ جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یاں تک بغض رکھتے ہیں کہ ان کے نزدیک سیہ نام کہ غلام نبی ، غلام رسول، غلام مصطفی ، غلام احمد ، غلام محمد شرک میں داخل ہیں“۔فرمایا کہ اور اس آیت سے معلوم ہوا کہ مدار نجات یہی نام ہیں۔(یعنی اگر محبت سے اور حقیقت میں ان ناموں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے عمل ٹھیک کئے یا اپنے ناموں کو ان صفات کا حامل بنایا تو پھر اس سے نجات بھی حاصل ہوتی ہے۔ورنہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ نام رکھنے سے نجات مل جائے گی کہ نام رکھ لیا اور پھر جتنی مرضی برائیاں کرتے رہے تو انسان نجات پا جائے گا۔یہ نہیں ہے۔یہ جو فرمایا کہ حکم سے باہر نہ جائے گا۔جو احکامات ہیں اُس سے باہر نہ جائے ، یہ جو فقرہ ہے یہ خاص طور پر بڑا ضروری ہے۔اس فقرہ پر بھی غور کرنا چاہئے۔) پھر آپ مزید فرماتے ہیں اور چونکہ عبد کے مفہوم میں یہ داخل ہے کہ ہر ایک آزادگی اور خودروی سے باہر آ جائے ( یعنی عبدیت اُس وقت ہوتی ہے جب نہ اپنی آزادی رہے، نہ خود اپنے بارے میں فیصلے کر کے خود ہی جو چاہے کرتا رہے ، اس سے باہر آئے) اور پورا متبع اپنے مولیٰ کا ہو۔اس لئے حق کے طالبوں کو یہ رغبت دی گئی کہ اگر نجات چاہتے ہیں تو یہ مفہوم اپنے اندر پیدا کریں۔اور درحقیقت یہ آیت اور یہ دوسری آیت قُل اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ وَيَغْفِرُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ (آل عمران:32)۔از روئے مفہوم کے ایک ہی ہیں۔( جو پہلی آیت پڑھی گئی تھی اور یہ آیت، فرمایا کہ