خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 489
خطبات مسر در جلد دہم 489 خطبه جمعه فرموده مورخه 17 اگست 2012 ء خوشنودی حاصل کرنے والا ہو۔دعاؤں کی قبولیت کے نظارے دیکھنے والا ہو۔اللہ تعالیٰ کے ارشادات، احکامات تو قرآن کریم میں ہیں جن کو پڑھتے ہیں، سنتے ہیں لیکن انسان کی فطرت اللہ تعالیٰ نے ایسی رکھی ہے کہ وہ عملی نمونوں سے عموماً پڑھنے اور سنے کی نسبت زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ایک شوق اور لگن اُس میں پیدا ہوتی ہے۔اور جب کسی سے محبت کا دعوی ہو تو محبوب کی ہرادا اور ہر عمل کو ایک انسان خود بھی اپنانے کی کوشش کرتا ہے اور عمل کا رنگ پھر کچھ اور ہی ہو جاتا ہے۔لیکن جب محبت کا اظہار اور اس محبت کی وجہ سے محبوب کو اپنے لئے نمونہ بنانا ایمان بھی شمار ہونے لگ جائے تو پھر ایک مومن کی اس سے بڑھ کر کوئی خواہش نہیں ہوتی اور نہیں ہونی چاہئے کہ وہ محبوب کی خوشی کے ساتھ اپنے ایمان کو بھی سلامت رکھے اور اس میں ترقی کرے۔ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے بنایا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان تمام احکامات کا جو قرآن کریم کی صورت میں آپ پر اترے ہیں ایک عملی نمونہ بنا دیا، ایک ایسا عملی نمونہ جو کامل تھا، جس نے آپ کو عبد کامل بنادیا۔یہ آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں ان میں اسی بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے بلکہ حکم دیا گیا ہے کہ ایک مسلمان کا، ایک ایمان لانے کا، دعوئی کرنے والے کا ایمان اُس وقت مکمل ہوگا، وہ تب خدا تعالیٰ کا قرب پاسکے گا جب میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر چلے گا۔اس کے بغیر ایمان ادھورا ہے۔اُس اُسوہ پر چلے بغیر آخرت کی نعماء کی امید فضول ہے۔اُس اُسوہ پر چلے بغیر نیکی، نیکی نہیں کہلا سکتی۔اس اسوہ پر چلے بغیر اللہ تعالیٰ کی عبادت ، عبادت نہیں ہے۔اس اُسوہ پر چلے بغیر اللہ تعالیٰ کی یاد اور اُس کا ذکر وہ مقام نہیں دلا سکتا جو اللہ تعالیٰ کا قرب دلائے۔اس اُسوہ پر چلے بغیر گناہوں سے نجات ممکن نہیں ہے۔اس اُسوہ پر چلے بغیر تم اللہ تعالیٰ کی رحیمیت سے وہ حصہ نہیں پاسکتے جس کے لئے تم اللہ تعالیٰ کو پکار رہے ہو۔اُس اُسوہ پر چلے بغیر اللہ تعالیٰ کی محبت کو حاصل کرنے والے نہیں بن سکتے کہ یہ خدا تعالیٰ کا محبوب ترین بندہ ہے۔اگر اُس کی پیروی نہیں کی تو اللہ تعالیٰ کی محبت بھی نہیں ملے گی۔پس جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم مسلمان ہیں لیکن آپ کی امت میں سے ہونے اور مسلمان ہونے کے فیض ہم تبھی اُٹھا سکتے ہیں جب ہم آپ کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں۔جب ہم اُن احکامات کو اپنے اوپر لاگو کرتے ہوئے اس طرح بجا لانے کی کوشش کریں جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کر کے دکھایا۔الْاِمَامُ جُنَّةٌ۔(صحيح البخارى كتاب الجهاد و السير باب يقاتل من وراء الامام ويتقی به حدیث 2957)