خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 486 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 486

خطبات مسرور جلد دہم 486 خطبه جمعه فرموده مورخه 10 اگست 2012 ء کے بتوں کو توڑ دیں۔سچائی کے اعلیٰ معیار قائم کریں۔عفو اور درگزر کی عادت ڈالیں۔غیبت اور چغلی سے بچیں۔امانتوں کے حق ادا کرنے کی کوشش کریں۔عدل کو قائم کریں اور نہ صرف عدل کو قائم کریں بلکہ اُس سے بڑھ کر احسان کریں اور پھر ایتاءِ ذِي الْقُرْبى (النحل: 91) کا سلوک کریں۔بغیر کسی انعام کے خدمت کا جذبہ ہو۔اپنے ماحول میں اپنے ملنے والوں سے، اپنے ہمسایوں سے حسنِ سلوک کریں کہ یہ بھی اسلام کی ایک بہت اہم تعلیم ہے۔قرآنِ کریم کی بہت اہم تعلیم ہے۔ہمسایوں کی جو تعریف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی ہے اور جس طرح ہمسائیگی کے حق کو آپ نے وسعت دی ہے اگر ہم اُس طرح اس کو وسعت دیں تو ہماری آپس کی رنجشیں جو ہیں بالکل ختم ہو جائیں۔ایک گھر نہیں ، سوگھر نہیں اگلے شہر تک، ملک تک یہ وسعت پھیلتی چلی جاتی ہے اور اس سے پھر ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کی طرف توجہ پیدا ہو جائے گی۔عیب چینی سے بچنے لگ جائیں گے۔غیبت کی عادت ختم ہو جائے گی کیونکہ یہ بھی اتنی بڑی برائی ہے کہ اس کو مردہ بھائی کے گوشت کھانے سے اللہ تعالیٰ نے تشبیہ دی ہے۔پس یہ غیبت کس قدر کراہت والی چیز ہے۔لیکن ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جو بغیر سوچے سمجھے غیبت کرتے چلے جاتے ہیں اور پھر توجہ دلانے پر کہتے ہیں کہ یہ چیزیں تو اس میں پائی جاتی ہیں۔بعض مجلسوں میں گھروں میں بیٹھ کر عہدیداروں کے بارے میں باتیں کی جاتی ہیں، اُن کی برائیاں ظاہر کی جاتی ہیں۔یہ چیزیں بھی غلط ہیں۔یہ غیبت شمار ہوتی ہے اور کہا یہ جاتا ہے یہ برائیاں اُن میں موجود ہیں۔ہم جھوٹ تو نہیں کہہ رہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تمہارے بھائی میں اگر یہ برائیاں ہیں اور تم اُس کی پیٹھ پیچھے اُن کا ذکر کرتے ہو تو یہی غیبت ہے۔اگر برائیاں نہیں ہیں اور پھر بھی تم ذکر کر رہے ہو تو پھر تو یہ بہتان ہے۔(سنن ترمذی کتاب البر والصلة باب ماجاء فی الغیبۃ۔حدیث 1934) پس ان برائیوں سے بچنا بھی ہمارا فرض ہے۔نیکیوں کو اختیار کرنا ہمارا فرض ہے۔تبھی ہم اُن لوگوں میں شمار ہو سکتے ہیں جو نیکیوں کی تلقین کرنے والے اور برائیوں سے روکنے والے ہیں۔پس ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی باتوں پر لبیک کہنا اُس وقت حقیقی ہوگا جب ہم تمام قسم کے احکامات کو اپنے اوپر لاگو کریں گے۔سب سے پہلے اپنی اصلاح کریں گے اور پھر دنیا کی اصلاح کریں گے جو ہمارا کام ہے تبھی ہم وَلْيُؤْمِنُوا ہی کہ مجھ پر ایمان لاؤ کے مصداق بنیں گے، ورنہ ہمارا ایمان کامل نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي کے بعد يُؤْمِنُوا پی کہہ کر اس طرف توجہ دلائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرو اور ہر قسم کے اعلیٰ اخلاق ہی ایمان میں کامل کریں گے۔اور عبدیت