خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 481
خطبات مسر در جلد دہم 481 خطبه جمعه فرموده مورخہ 10 اگست 2012 ء انسان دنیاوی کاموں میں پڑا ر ہے اور اپنے مقصد پیدائش کو بھول جائے اور سمجھے کہ آئندہ رمضان آئے گا تو پھر عبد بننے کی کوشش کر لیں گے۔پھر حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ کر لیں گے۔اللہ تعالیٰ نے روزوں کے ساتھ اس حکم کو رکھا ہے کہ میری باتوں پر لبیک کہو اور اپنے ایمانوں کو مضبوط کرو تو ٹھیک ہے۔یہ نہیں کہ جب اگلا رمضان آئے گا تو پھر ہم کوشش کر لیں گے۔اگر اس بات پر توجہ رکھو گے کہ اگلے رمضان کے آنے تک ہم نے اس رمضان کی نیکیوں کو جاری رکھنا ہے تو تبھی فائدہ ہوگا۔ورنہ اس کا کوئی فائدہ نہیں کہ اس رمضان میں نیکیاں کر لیں اور بس۔پھر جب اگلا رمضان آئے گا تو پھر کر لیں گے۔اگر یہ ہماری سوچ ہوگی تو ہم نے اپنے مقصد کو پانے کی کوشش نہیں کی، اُن نیک لوگوں کے زمرہ میں شامل نہیں ا ہوئے جنہیں اللہ تعالیٰ نے عِبَادِی کہہ کر مخاطب کیا ہے۔پس عبد بنے کا عمل چند دن یا ایک مہینے کا عمل نہیں ہے۔عبد بننے کے لئے مسلسل کوشش کی ضرورت ہے اور رمضان میں کیونکہ ایک مومن بندے کی اس طرف زیادہ توجہ ہوتی ہے اس لئے خاص طور پر روزوں کے ساتھ اس طرف توجہ دلائی کہ جب اپنی اصلاح کی طرف توجہ پیدا ہوئی ہے تو اس میں ترقی ہوتی رہنی چاہئے۔اور یہ ترقی کس طرح ہو گی ، اللہ تعالیٰ کا حقیقی عبد انسان کس طرح بنے گا ؟ اپنے مقصد پیدائش کو کس کس طرح حاصل کرنے کی کوشش کرے گا؟ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صِبْغَةَ اللهِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللهِ صِبْغَةً وَنَحْنُ لَهُ عَبدُونَ (البقرة:139) کہ اللہ کا رنگ پکڑو اور رنگ میں اللہ سے بہتر اور کون ہو سکتا ہے اور ہم اُسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔پس مقصد پیدائش کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ کا رنگ پکڑنے ، اُس کی صفات اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنا بھی ضروری ہے تبھی انسان حقیقی عبد بن سکتا ہے۔دنیا وی رشتوں میں ہم دیکھتے ہیں کہ پیار کا یہ رشتہ تو ایک طرف رہا، خونی رشتے تو ایک طرف رہے، آقا اور غلام کے رشتوں میں بھی غلام اپنے آقا کی پسند اور ناپسند کو اپنے اوپر طاری کر لیتا ہے یا اس کی کوشش کرتا ہے۔ان رشتوں میں تو بعض دفعہ دکھاوا اور جھوٹ بھی شامل ہو جاتا ہے اور فائدہ بھی یقینی نہیں ہوتا۔جیسا کہ مختلف قصے آتے ہیں ایک قصہ مشہور ہے کہ ایک بادشاہ کا درباری تھا، بادشاہ کو کہیں سے بینگن تحفہ آئے اور اُس کی بڑی تعریف ہوئی تو اس نے روزانہ وہی کھانے شروع کر دیئے۔درباری نے بے تحاشہ اُس کی تعریفیں کیں، اتنی زیادہ مبالغہ آمیز تعریفیں کہ حد کر دی۔آخر بادشاہ نے ہر کھانے پر جب اُسے کھانا شروع کیا تو بیمار ہو گیا۔اُس بادشاہ نے جب اس کی بد تعریفی کی تو اُسی درباری نے اُس کی بد تعریفیں شروع کر دیں۔تو بادشاہ نے پوچھا پہلے تم