خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 480 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 480

خطبات مسرور جلد دہم 480 خطبه جمعه فرموده مورخه 10 اگست 2012 ء نہیں رکھتا اور رات دن دنیا کے حصول کی فکر میں ڈوبا ہوا ہے کہ فلاں زمین خریدلوں، فلاں مکان بنالوں، فلاں جائیداد پر قبضہ ہو جاوے۔تو ایسے شخص سے سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ کچھ دن مہلت دے کر واپس بلالے اور کیا سلوک کیا جاوے۔“ فرماتے ہیں: ”انسان کے دل میں خدا تعالیٰ کے قرب کے حصول کا ایک درد ہونا چاہیے جس کی وجہ سے اس کے نزدیک وہ ایک قابل قدر شئے ہو جاوے گا۔اگر یہ درد اس کے دل میں نہیں ہے اور صرف دنیا اور اس کے مافیہا کا ہی درد ہے تو آخر تھوڑی سی مہلت پا کر وہ ہلاک ہو جائے گا۔“ ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 222۔ایڈیشن 2003 ء۔مطبوعہ ربوہ ) اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ دنیا کے کام نہیں کرنے چاہئیں۔ایک جگہ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جس کی زمین ہے، اُس پر وہ محنت نہیں کرتا، جس کا کاروبار ہے اس پر وہ محنت نہیں کرتا تو وہ بھی اُس کا حق ادا نہیں کر رہا۔اس لئے جو دنیاوی کاروبار ہیں، دنیاوی کام ہیں وہ بھی ساتھ ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف توجہ بھی رہے اور اس مقصد پیدائش کو کبھی نہ بھولے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کیلئے رکھا ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد پنجم صفحہ 550۔ایڈیشن 2003 مطبوعہ ربوہ ) فرمایا: اس کے لئے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کیلئے ایک درد ہونا چاہئے۔پس جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا کہ اپنے مقصد پیدائش کو جاننے کے لئے اللہ تعالیٰ کی معرفت اور قرب حاصل کرنا ضروری ہے اور اس طرف کوشش کرنی چاہئے لیکن یہ قرب اُس وقت حاصل ہوتا ہے جب اُس کے حصول کا درد انسان میں پیدا ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے میرے بندو! جو اس درد کے حصول کی کوشش رکھتے ہو، تمہاری خواہش تب خواہش سے نکل کر عمل کا روپ دھارے گی جب تمہارا ایمان ترقی کی منازل طے کرتا چلا جائے گا۔اس میں ترقی ہوتی چلی جائے گی۔جب تم میری ہر بات پر لبیک کہنے والے بنو گے یا کم از کم نیک نیتی سے اس کے لئے کوشش کرو گے۔عبد بننے کے لئے عبادات کے ساتھ باقی احکامات پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔انسان کمزور ہے، بشری تقاضے کے تحت اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے لیکن اس اونچ نیچ کا احساس فوری طور پر پیدا بھی ہونا چاہئے۔کسی ایک عمل میں کمزوری کا احساس ہوتے ہوئے اُس کے مداوے کی پھر کوشش بھی کرنی چاہئے۔تو بہ استغفار کی طرف توجہ کرتے ہوئے فوری اُن کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش بھی ہونی چاہئے۔یہ نہیں کہ ٹھیک ہے اس رمضان میں نیکیوں کے کرنے کی طرف توجہ کر لو پھر سارا سال دنیا کے حصول کی ہی فکر ر ہے۔