خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 479 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 479

خطبات مسرور جلد دہم 479 خطبه جمعه فرموده مورخه 10 اگست 2012 ء رمضان میں یا درکھنا اور عام دنوں میں بیشک اس طرف توجہ نہ ہو۔فرمایا یہ مقصد پیدائش تو اللہ تعالیٰ کے حقیقی عبد کو ہر وقت سامنے رکھنا چاہئے یا اُس شخص کو سامنے رکھنا چاہئے جو حقیقی عبد بنا چاہتا ہے۔روزوں کی برکات سے جب روحانیت میں مزید ترقی ہو رہی ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے قرب کی تلاش پہلے سے بڑھ کر کرنے کی کوشش ہو رہی ہے تو پھر میرے بارے میں پوچھنے والوں کو بتا دو کہ میں رمضان میں اور بھی قریب آ گیا ہوں جیسا کہ پہلے بھی میں نے حدیث کا ذکر کیا تھا کہ جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔(صحیح بخاری کتاب الصوم باب هل يقال رمضان او شهر رمضان۔۔۔۔۔حديث 1898) اور اللہ فرماتا ہے کہ جو لوگ پہلے توجہ کرنے والے ہیں کہ میرا عبد بنیں اُن کو بتا دو کہ ان دنوں میں خاص طور پر میں بندوں کے قریب ہوں۔پس اللہ تعالیٰ جو اپنے بندوں کے قریب ہے بلکہ ہمیشہ ہی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے، عام دنوں میں بھی حق بندگی ادا کرنے کی کوشش کرنے والوں کیلئے اُن کے لئے جو رات کو تہجد کی نمازوں کے لئے جاگتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نچلے آسمان پر آجاتا ہے۔(صحیح بخاری کتاب التجهد باب الدعاء والصلاة من أخر الليل حديث (1145) رمضان میں تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور شفقت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔پس خوش قسمت ہوں گے وہ جو اس سے بھر پور فائدہ اُٹھا ئیں اور یہ عہد کریں کہ رمضان میں خدا تعالیٰ کا عبد بننے کی جو کوشش کی ہے یا کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ کی قربت کے نظارے دیکھنے کے لئے اپنی کوشش کی ہے یا ان دنوں میں دیکھے ہیں، روزوں کی وجہ سے ان میں صبح کے نوافل کی طرف بھی توجہ پیدا ہوئی ہے، تہجد پڑھنے کی طرف توجہ پیدا ہوئی ہے، نمازوں میں جو باقاعدگی کی طرف توجہ پیدا ہوئی ہے، قرآن کریم پڑھنے اور سمجھنے کی طرف جو توجہ پیدا ہوئی ہے، درسوں میں بیٹھنے اور درس سننے کی طرف توجہ پیدا ہوئی ہے اُسے جاری رکھیں تو اللہ تعالیٰ جو اپنے بندوں کے دلوں کا حال جانتا ہے، اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ میرے ان بندوں سے کہہ دو کہ اس عہد کے ساتھ مانگو کہ حق بندگی ادا کرنے کی اس کوشش کو جاری رکھو گے تو میں نہ صرف رمضان میں بلکہ ہمیشہ تمہارے قریب ہوں اور رہوں گا۔اگر تم صرف عارضی طور پر اس مقصد کی طرف توجہ کر رہے ہو تو تمہاری زندگی بے فائدہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ”خدا تعالیٰ نے انسان کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ اس کی معرفت اور قرب حاصل کرے۔66 مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات: 57) فرماتے ہیں کہ ” جو اس اصل غرض کو مد نظر