خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 478
خطبات مسر در جلد دہم 478 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 اگست 2012 ء بتایا ہے۔اس مقام کی طرف نشاندہی فرمائی ہے جس پر پہنچ کر ایک انسان حقیقی مومن بنتا ہے اور خدا تعالیٰ کے قرب کو حاصل کرنے والا بنتا ہے۔رمضان کے روزوں سے فیض پانے والا بنتا ہے۔اس آیت پر غور کریں تو اس میں جہاں اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے لئے پیار جھلکتا ہے اور اُس حدیث کا مزید فہم حاصل ہوتا ہے جس میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص مجھ سے بالشت بھر قریب ہوتا ہے میں اُس سے گز بھر قریب ہوتا ہوں۔اگر وہ مجھ سے ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے تو میں اُس سے دو ہاتھ قریب ہوتا ہوں۔اور جب وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اُس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں۔(صحیح بخاری کتاب التوحيد باب قول الله تعالى : ويحذركم الله نفسه حدیث 7405) تو خدا تعالیٰ اس طرح پیار کرتا ہے اپنے بندے سے، اپنے ان بندوں سے جو حقیقت میں بندگی کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اُن لوگوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بندے کہلانے والے ہیں۔پس جیسا کہ میں نے کہا جہاں اس آیت سے اور خاص طور پر عِبَادِی یعنی ” میرے بندے“ کے لفظ سے اللہ تعالیٰ کے جس پیار کا اظہار ہو رہا ہے، وہاں اس بات کا بھی پتہ چل رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر انسان کے سوال پر یہ جواب نہیں دے رہا کہ میں قریب ہوں۔خدا تعالیٰ کی طرف چل کر جانا تو دور کی بات ہے جو ایک بالشت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھنا نہیں چاہتا، وہ لوگ عبادی کے زمرہ میں نہیں آتے۔اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو مخاطب کر کے یہ نہیں کہا یا بشر کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ اُس عبد کو مخاطب کیا ہے جو عبد بننے کا حق ادا کرنے کی طرف توجہ رکھتا ہے اور اس کے لئے کوشش کر رہا ہے۔اور عبد بننے کا حق کس طرح ادا ہوتا ہے؟ اُس کے لئے ہمیں اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی طرف توجہ کرنی ہو گی جس میں ہمیں اپنے مقصد پیدائش کو سامنے رکھنے کی اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے بندے وہ ہیں جو اپنے مقصد پیدائش کو پہچاننے والے ہیں اور پھر صرف پہچاننے والے ہی نہیں بلکہ اُس کے حصول کے لئے دن رات کوشش کرنے والے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے وہ ہیں جو اس طرف توجہ کریں جس کے بارے میں ارشاد ہے کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات: 57) اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔پس اللہ تعالیٰ کا عباد بننے کا معیار اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرتے چلے جانے کو رکھا ہے۔اور یہ نہیں فرمایا کہ اب سے مقصد پیدائش کو صرف