خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 473 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 473

خطبات مسر در جلد دہم 473 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 3 اگست 2012 ء ذکر کیا گیا ہے۔پہلی آیت میں بتایا کہ حقیقی مومن اپنے رب کے ڈر سے کانپتے ہیں، لرزتے ہیں اور یہ وہ خشیت ہے جو ایک حقیقی مومن میں ہونی چاہئے۔یعنی اللہ تعالیٰ کی عظمت ، جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے، کا اقرار کرنا اور اللہ تعالیٰ کو تمام طاقتوں کا مالک سمجھ کر اُس سے لرزاں رہنا۔پھر اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان لانے والے ہیں۔وہ حقیقی مومن ہے۔وہ حقیقی مسلمان ہے۔اور آیات کیا ہیں؟ اللہ تعالیٰ کے تمام احکامات، تمام نشانات، تمام معجزات جو قرآن کریم میں بیان ہوئے ہیں۔تمام آیات جو قرآنِ کریم کی ہیں۔ہر حکم جو ہے یہ سب آیات ہیں۔پس ان پر عمل ایک مومن کے لئے ضروری ہے۔اور جب ایمان ہوگا تو کامل ایمان اُس وقت ہوتا ہے جب اُس پر عمل بھی ہو۔اور یہ عمل پھر ایمان میں ترقی کا باعث بنتا ہے۔خشیت اللہ میں ترقی کا باعث بنتا ہے۔پھر فرمایا کہ حقیقی مسلمان اپنے رب کے ساتھ شریک نہیں ٹھہراتا۔جس میں خشیت ہو، جس کو آیات پر ایمان ہو وہ شرک تو نہیں کرتا لیکن بعض دفعہ اگر بظاہر ایسا شرک نہ بھی ہو تو مخفی شرک بھی انسان سے ہو جاتے ہیں۔اس لئے باریک بینی سے اپنے پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے تب ہی ایک حقیقی مسلمان بن سکتا ہے۔اپنے قول وفعل کو ہرلمحہ سچائی پر قائم رکھنے کی ضرورت ہے۔اس لئے چوتھی بات ان آیات میں یہ بھی بیان فرمائی ہے کہ خدمت دین بھی کرتے ہیں، مال بھی خرچ کرتے ہیں ، وقت بھی خرچ کرتے ہیں، احکامات پر عمل کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں پھر بھی جو حقیقی مومن ہیں ان کے دل اس بات سے اس لئے ڈرتے رہتے ہیں کہ سب کچھ تو کیا ہے، اللہ تعالیٰ پتہ نہیں قبول بھی فرماتا ہے یا نہیں۔کہیں کو ئی مخفی غلطی ایسی نہ ہو جائے جو خدا تعالیٰ کی رضا سے دور لے جائے۔کہیں کوئی مخفی شرک شامت اعمال کی وجہ نہ بن جائے۔کہیں کسی حکم پر عمل نہ کرنا یا کمزوری دکھانا ایمان میں کمی کا باعث نہ بن جائے۔کہیں اللہ تعالیٰ کی خشیت صرف ظاہری دکھاوا ہی نہ ہو۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت فرمایا کہ یا رسول الله ! کیا وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا أَتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ (المومنون: 61) کا مطلب یہ ہے کہ انسان جو کچھ چاہے کرے مگر خدا تعالیٰ سے ڈرتا رہے؟ تو آپ نے فرمایا: نہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان نیکیاں کرے مگر اس کے ساتھ خدا تعالیٰ سے بھی ڈرتا رہے۔(ماخوذ از مسند احمد بن حنبل جلد 8 صفحه 296-297 مسند عائشہ حدیث : 25777 مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) ہیں ہمیشہ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ للہ تعالی بے نیاز بھی ہے کسی نیکی کوقبول کرتا ہے اور کسی کونہیں۔