خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 472 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 472

خطبات مسر در جلد دہم 472 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 3 اگست 2012 ء علم القرآن ہے۔اس سے فلسفہ، سائنس یا اور علومِ مروّجہ مراد نہیں۔کیونکہ اُن کے حصول کے لئے تقویٰ اور نیکی کی شرط نہیں۔بلکہ جیسے ایک فاسق فاجر اُن کو سیکھ سکتا ہے ویسے ہی ایک دیندار بھی۔لیکن علم القرآن بحر متقی اور دیندار کے کسی دوسرے کو دیا ہی نہیں جاتا۔پس اس جگہ علم سے مراد علم القرآن ہی ہے جس سے ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 599۔ایڈیشن 2003 ء۔مطبوعہ ربوہ ) تقویٰ اور خشیت پیدا ہوتی ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: علماء کے لفظ سے دھو کہ نہیں کھانا چاہئے۔عالم وہ ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔۔إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَموا (فاطر: 29) یعنی بیشک جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں، اُس کے بندوں میں سے وہی عالم ہیں۔ان میں عبودیت تامہ اور خشیۃ اللہ اس حد تک پیدا ہوتی ہے کہ وہ خود اللہ تعالیٰ سے ایک علم اور معرفت سیکھتے ہیں اور اُسی سے فیض پاتے ہیں اور یہ مقام اور درجہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع اور آپ سے پوری محبت سے ملتا ہے یہاں تک کہ انسان بالکل آپ کے رنگ میں رنگین ہو جاوے۔“ پس یہ عالم کی حقیقت ہے اور یہ ہے علماء کی خشیت اللہ ہونے کا مطلب۔ان اقتباسات میں جہاں حقیقی اور نام نہاد علماء کا فرق ہمیں معلوم ہو گیا وہاں ہماری توجہ بھی اس طرف پھیری گئی ہے کہ تم حقیقی تقویٰ اختیار کرو اور خَشْيَةُ الله پیدا کرو۔کیونکہ ایک مومن کے لئے یہ ضروری ہے تا کہ حقیقی مومن اور مسلمان بن سکو۔پس ان (اقتباسات) میں یہ ذمہ داری بھی ہم پر ڈالی گئی۔پس یہ کسی مخصوص طبقہ کے ساتھ خاص نہیں ہے۔تقویٰ پر چلنے کا حکم ہر مومن کو ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر چلنا ہر ایک کے لئے ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر خدا کا پیارمل ہی نہیں سکتا۔( ملفوظات جلد 4 صفحہ 433-434۔ایڈیشن 2003ء - مطبوعہ ربوہ ) پس اس رمضان میں جو اللہ تعالیٰ نے اپنی قربت کے دروازے کھول دیئے ہیں اور ایسا ماحول بھی پیدا کر دیا ہے جو تقویٰ میں ترقی کرنے کے لئے مددگار اور معاون ہے۔جو اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر چلنے کے لئے ہماری توجہ پھیر نے والا ہے۔درس وغیرہ بھی ہوتے ہیں۔حدیث کا درس بھی ہے۔قرآن کا درس بھی ہوتا ہے۔ہم سنتے بھی ہیں، تو ہمیں اس سے بھر پور فائدہ اُٹھانا چاہئے۔قرآنِ کریم پڑھ کر سن کر علم و معرفت کے اُن راستوں کی تلاش کرنی چاہئے جو تقویٰ میں بڑھاتے ہیں، جو خشیة اللہ پیدا کرتے ہیں۔جو آیات میں نے شروع میں تلاوت کی ہیں، ان کے حوالے سے بھی کچھ تھوڑا سا بیان کر دوں۔پہلی پانچ آیات جیسا کہ میں نے کہا سورۃ المومنون کی ہیں جن میں ایک حقیقی مسلمان کی خصوصیات کا