خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 471 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 471

خطبات مسرور جلد دہم 471 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 3 اگست 2012 ء ایمانی فلسفه قرآن کریم کے طفیل سے ملتا ہے۔مومن کا کمال اور معراج یہی ہے کہ وہ علماء کے درجہ پر پہنچے۔(اب یہاں تخصیص نہیں کی۔) ” مومن کا کمال اور معراج یہی ہے کہ وہ علماء کے درجے تک پہنچے اور اسے حق الیقین کا وہ مقام حاصل ہو جو عم کا انتہائی درجہ ہے۔(ملفوظات جلد 1 صفحہ 231 ایڈیشن 2003 ،مطبوعہ ربوہ) اب ہر مومن، ہر ایمان لانے والا مسلمان ایمان میں ترقی کرتا ہے تو مومن کہلاتا ہے۔ضروری نہیں کہ عالم ہونے کی ڈگری پاس ہو۔فرمایا وہ علماء کے درجے پر پہنچے۔وہ حق الیقین کا مقام اُسے حاصل ہو جو علم کا انتہائی درجہ ہے۔لیکن جو لوگ علوم حقہ سے بہرہ ور نہیں ہیں اور معرفت اور بصیرت کی راہیں اُن پر کھلی ہوئی نہیں ہیں وہ خود عالم کہلا ئیں مگرعلم کی خوبیوں اور صفات سے بالکل بے بہرہ ہیں اور وہ روشنی اور نور جو حقیقی علم سے ملتا ہے اُن میں پایا نہیں جاتا۔بلکہ ایسے لوگ سراسر خسارہ اور نقصان میں ہیں۔یہ اپنی آخرت دخان اور تاریکی سے بھر لیتے ہیں جن لوگوں کو سچی معرفت اور بصیرت دی جاتی ہے اور وہ علم جس کا نتیجہ خشیت اللہ ہے عطا کیا جاتا ہے وہ وہ لوگ ہیں جن کو حدیث میں انبیاء بنی اسرائیل سے تشبیہ دی گئی ہے۔پس اصل عالم ایسے لوگ ہیں۔آجکل کے علماء کے بارے میں تو حدیث میں آتا ہے۔یعنی وہ علماء جو صرف اپنے زعم میں عالم ہیں اور عمل اُن کے کچھ نہیں ہیں۔حدیث میں آیا ہے، فرمایا۔عُلَمَاؤُهُمْ شَرٌّ مَنْ تَحْتَ آدِيْمِ السَّمَاءِ مِنْ عِنْدِهِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَةُ وَفِيْهِمْ تَعُوْدُ (ماخوذ از ملفوظات جلد 1 صفحہ 231-232۔ایڈیشن 2003ء۔مطبوعہ ربوہ ) (الجامع لشعب الایمان جزء 3 صفحه 17-318 فصل قال وينبغى لطالب علم أن يكون تعلمه۔۔۔1763 مكتبة الرشد السعودية2004) یعنی اُن کے علماء ( اس زمانے کے جو علماء ہیں ) آسمان کے نیچے بسنے والی بدترین مخلوق میں سے ہوں گے کیونکہ اُن میں سے ہی فتنے اُٹھیں گے اور اُن میں ہی لوٹ جائیں گے۔اور آجکل آپ یہ دیکھ لیں کہ جتنے جھگڑے فساد ہیں، ان علماء کی وجہ سے ہی پیدا ہوئے ہوئے ہیں جو نام نہاد علماء ہیں۔پس اس حدیث سے بھی واضح ہو گیا کہ ہر عالم یا عالم کہلانے والا ، اللہ تعالیٰ کی خشیت رکھنے والا نہیں ہے اور آجکل جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے ہم دیکھ رہے ہیں کہ فتنہ اور فساد کا باعث یہ نام نہاد علماء کی اکثریت ہی ہے جو بن رہی ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: تقویٰ اور خدا ترسی علم سے پیدا ہوتی ہے۔جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انما يخشى الله مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَموا (فاطر:29) یعنی اللہ تعالیٰ سے وہی لوگ ڈرتے ہیں جو عالم ہیں۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی علم خشية الله کو پیدا کر دیتا ہے۔اور خدا تعالیٰ نے علم کو تقویٰ سے وابستہ کیا ہے کہ پورے طور پر عالم ہوگا اُس میں ضرور خشیة اللہ پیدا ہوگی۔فرمایا ”علم سے مراد میری دانست میں