خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 467 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 467

خطبات مسرور جلد دہم 467 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 3 اگست 2012 ء تو بعض ایسے بھی ہیں کہ خدا تعالیٰ کے وجود کے ہی منکر ہیں کجا یہ کہ اللہ تعالیٰ کی خشیت اُن کے دلوں میں پیدا ہو۔تو یہاں عالم کی تعریف کی تلاش کرنی ہوگی کہ حقیقی عالم کون ہے؟ نہ نام نہا د نیا کے لالچوں میں گھرے ہوئے دینی عالم یہاں مراد ہیں اور نہ ہی دنیا وی عالم۔یہاں اس بات کی وضاحت بھی کر دوں کہ بیشک اسلام دینِ کامل ہے اور یہ دینی علم رکھنے والے دعوی بھی کرتے ہیں کہ ہم نے یہ دین کا علم حاصل کیا ہے۔بعض لوگ اسلام کا پیغام بھی پہنچاتے ہیں۔اسلام کا پھیلنا بھی اللہ تعالیٰ کی تقدیروں میں سے ایک تقدیر ہے لیکن یہ ایسے علماء کے ہاتھوں سے نہیں ہو گا جن کے دنیاوی مفادات ہیں یا جن کے دنیاوی مفادات زیادہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کی خشیت نام کی کوئی چیز اُن میں نہیں ہے۔شاید میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا ، اس دفعہ امریکہ کے دورہ میں جب ٹی وی کے نمائندے نے مجھ سے سوال کیا کہ امریکہ میں اسلام کے پھیلنے کے کیا امکانات ہیں؟ تو اس کو میں نے یہی کہا تھا کہ اسلام تو انشاء اللہ نہ صرف امریکہ میں بلکہ تمام دنیا میں پھیلے گا مگر ان نام نہا د اسلام کے ٹھیکیداروں اور ان علماء کے ذریعے سے نہیں پھیلے گا بلکہ جماعت احمدیہ کے ذریعہ سے پھیلے گا اور دلوں کو فتح کر کے اور امن اور پیار اور محبت کی تعلیم دے کر، نہ کہ دہشت گردی اور شدت پسندی سے جس کی تعلیم آجکل یہ علماء اکثر دیتے رہتے ہیں۔کیونکہ یہ قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف ہے۔حقیقی اسلام اب صرف اور صرف جماعت احمدیہ کے پاس ہے جو اس زمانے کے امام اور مسیح موعود اور مہدی معہود نے ہمیں کھول کر بتایا ہے اور سکھایا ہے۔قرآن کریم کی تعلیم کا حقیقی فہم و ادراک ہمیں حاصل کروایا ہے۔اللہ تعالیٰ کی خشیت کی حقیقت کھول کر بیان فرمائی ہے اور واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی حقیقی خشیت پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہے۔علماء صرف ایک طبقے کا نام نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کی خشیت کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو محدود ہے بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے ہر انسان کو خدا تعالیٰ سے ملانے کے لئے تشریف لائے تھے۔انسانوں کو باخدا انسان بنانے کے لئے تشریف لائے تھے اور انسان با خدا انسان نہیں بن سکتا جب تک کہ اُس میں خدا تعالیٰ کی خشیت پیدا نہ ہو۔اسلام میں آ کر تو بڑے بڑے چور ڈاکوصرف اس لئے ولی بن گئے کہ اُن میں اللہ تعالیٰ کی خشیت کا فہم و ادراک پیدا ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے ارشادات میں بہت جگہ پر تذکرۃ الاولیاء کے واقعات بھی بیان فرماتے ہیں، کئی جگہ ذکر آتا ہے۔ایک مثال میں اس وقت تذکرۃ الاولیاء کی لیتا ہوں۔فضیل بن عیاض کے متعلق تذکرۃ الاولیاء میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ ہرات میں کوئی قافلہ آکر ٹھہرا اور اس میں ایک شخص یہ آیت تلاوت کر رہا تھا کہ آلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ الله (الحديد : 17)-