خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 461
خطبات مسرور جلد و هم 461 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جولائی 2012ء جماعتوں میں خلیفہ وقت کا پیغام پہنچاؤ بجائے اس کے کہ اپنی زبان میں کچھ کہو۔پھر یہ بھی تھا کہ جب باہر جاتے ، یا جب اپنے نائین کو یا انسپکٹر ان کو دورے پر بھیجتے تھے تو یہ کہتے کہ آپ مرکز کے نمائندہ ہیں اس لئے اپنے ہر قول و فعل کا خیال رکھیں۔بعض دفعہ دفتر میں زائد وقت گزارنا ہوتا تو خیال کرتے کہ دفتر بند ہو گیا ہے اور کارکن برا نہ سمجھیں تو ان کو بڑے اچھے انداز میں کہا کرتے تھے کہ آپ لوگ یہ نہ سمجھا کریں کہ دفتر والے باقی تو آرام سے گھر چلے گئے ہیں اور ہم دفتر میں کام کر رہے ہیں بلکہ یہ خیال کریں کہ وہ تو اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں، چلے گئے ہیں اور خدا تعالیٰ ہمیں اضافی خدمت کا موقع دے رہا ہے۔تو یہ خدمت دین کو فضل الہی جاننے کا ایک عملی ثبوت تھا۔ان کے ایک کارکن کہتے ہیں کہ وفات سے چار پانچ دن پہلے ان کی تیمارداری کے لئے خاکسار گیا تو مجھے کہنے لگے کہ کوئی ناصر احمد نام کارکن تیمار داری کے لئے آیا تھا آپ اُسے جانتے ہیں؟ کہتے ہیں میں نے انہیں کہا کہ تحریک جدید میں ناصر نام کے تین چار کارکن ہیں۔اس پر وہ کہنے لگے کہ کل جو ناصر احمد ملنے مجھے آیا تھا اور بچے نے کہہ دیا کہ میں سورہا ہوں اور اُن کو واپس جانا پڑا۔آپ اُن کا پتہ کریں کہ وہ کون ہے اور میری طرف سے معذرت کر دیں کہ بچے کو غلطی لگی تھی۔شاید آنکھیں بند دیکھ کے اُس نے کہہ دیا کہ میں سورہا ہوں ، میں سونہیں رہا تھا۔تو اس حد تک بار یکی سے خیال رکھا کرتے تھے۔باقاعدگی سے صدقہ دینے والے تھے۔پس میں نے ان کا کچھ مختصر ذکر کیا ہے۔میں نے بھی ان کے ساتھ کام کیا ہے اور یہ بہت کم خصوصیات ہیں جو ابھی لکھی گئی ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی خصوصیات کے حامل تھے اور کام انتھک اور خوش مزاجی سے کیا کرتے تھے۔خلافت سے بھی بے انتہا وفا کا تعلق تھا۔بہر حال یہ بزرگ تھے جو وفا کے ساتھ جہاں اپنے کام میں مگن تھے وہاں خلیفہ وقت کے بھی سلطان نصیر تھے۔اور پھر اس کے ساتھ ہی خلیفہ وقت کے لئے دعائیں بھی بے انتہا کیا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ایسے کام کرنے والے کارکن ہمیشہ جماعت کو مہیا فرما تار ہے۔اس کے علاوہ کچھ اور بھی وفات یافتگان ہیں جن کا میں نے ذکر کیا ہے۔چوہدری شبیر صاحب کا جنازہ جمعہ کی نماز کے بعد اور باقی جن کا میں ذکر کرنے لگا ہوں ان کا بھی جنازہ غائب جمعہ کی نماز کے بعد ہی میں پڑھاؤں گا۔ان میں سے ایک ہمارے مربی سلسلہ مقبول احمد ظفر صاحب ہیں جو آجکل نظارت اصلاح وارشاد میں تھے۔ان کو پرانی انتریوں کی تکلیف تھی جو بگڑ گئی اور آخر ان کی 25 جولائی کو وفات ہوگی۔إِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔یہ کوٹ محمد یار چنیوٹ کے قریب رہنے والے تھے۔اس کے بعد انہوں