خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 460 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 460

خطبات مسر در جلد دہم 460 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جولائی 2012ء میں خوب نبھایا۔ان کے گھر کے تعلقات اچھے تھے ، بیوی کا بڑا خیال رکھنا، لیکن جہاں دین کا سوال آ جاتا تھا، دورے وغیرہ پر جانا ہوتا تھا، کئی دفعہ ایسے مواقع آئے کہ ان کی اہلیہ بیمار ہیں یا بچے کی پیدائش ہونے والی ہے، تشویش ہے، تو وہاں یہ کہہ دیا کرتے تھے کہ میں خدا کے دین کے کاموں سے جاتا ہوں، خدا تعالیٰ میرے باقی کام سنوار دے گا۔اور اللہ تعالیٰ سنوار بھی دیا کرتا تھا۔اب یہ بھی بعض بظاہر معمولی معمولی باتیں ہیں لیکن پرانے لوگوں کی ان باتوں سے آجکل کے ہر واقف زندگی کو بھی اور کارکن کو بھی سبق سیکھنا چاہئے بلکہ ہر جماعتی عہد یدار کو بھی۔ان کے ایک انسپکٹر کہتے ہیں کہ کچھ کتابیں دیکھ رہے تھے جو دفتر کی طرف سے جلد کرائی گئی تھیں، اُن میں ایک دریشمین نکل آئی تو اس در خمین کو لے کرا کا ؤنٹنٹ صاحب کو بلایا اور فرمانے لگے کہ یہ تو میری ذاتی در ثمین ہے اس کو بھی آپ نے جلد کروادیا ہے۔اس پر بتائیں کتنے پیسے خرچ ہوئے ہیں۔اکاؤنٹنٹ نے یہ کہا کہ سب کتابیں اکٹھی جلد ہو گئی ہیں لیکن آپ نے کہا نہیں پتہ کرو۔آخر پتہ کروایا۔غالباً آٹھ دس روپے جو خرچ ہوئے تھے، وہ جب تک اکا ؤنٹنٹ کے حوالے نہیں کر دیئے ،سکون نہیں آیا۔اور اسی طرح کا رکن بھی یہی کہتے ہیں کہ بڑے دلنشین انداز میں نصیحت کرتے جو ہمیں گراں نہ گزرتی۔ہماری تربیت فرماتے۔اکثر نصیحت فرماتے اور یہ بڑی نصیحت ہے جو ہر ایک کو یاد رکھنی چاہئے کہ خدمت دین کو شوق اور محبت سے کرنا چاہئے اور اس کے بدلے میں کسی طرح بھی طالب انعام نہیں ہونا چاہئے۔ہمیشہ خیال رکھیں کہ آپ کو خدا نے خدمت کا موقع دیا ہے اور آپ نے اپنے رب کو راضی کرنا ہے۔اسی طرح آنے والے مہمانوں کو دفتر میں بڑے عزت سے ، احترام سے ان کو ملتے کھڑے ہوکر ملتے اور اکثر کہا کرتے تھے کہ مرکز میں آنے والے مہمان جو ہیں وہ کچھ تو قعات لے کر آتے ہیں اور ان کے ساتھ اچھی طرح ملنا چاہئے۔پانی پوچھنا چاہئے ، اپنا کام چھوڑ کے اُن کی طرف توجہ کیا کرتے تھے اور جتنا وقت مرضی لگ جائے یا دفتر بند بھی ہو جائے تو جب تک اُن کا کام نہ کر لیتے گھر نہ جاتے۔اگر ہوسکتا تھا تو بتا دیا کرتے تھے۔اگر نہیں تو کہہ دیا کرتے تھے آپ کو بعد میں اطلاع ہو جائے گی۔دفتر میں چندوں کا معاملہ ہے، یہاں بھی سیکرٹریان مال کو تجربہ ہو گا کہ بعض دفعہ اگر چندے کا حساب صحیح نہ ہو یا اندراج صحیح نہ ہو تو لوگ غصہ میں آ جاتے ہیں ، تو ان کے ساتھ بھی اگر کوئی غصہ میں آ جاتا تھا تو خاموشی سے سنتے تھے اور آخر وہ خود ہی شرمندہ ہو کر معافی مانگ لیتا تھا۔اسی طرح کا رکنوں کو بھی ، اپنے بچوں کو بھی صدقہ و خیرات کی طرف توجہ دلاتے رہتے تھے جو بلاؤں کو ٹالنے کا ذریعہ ہے اور پھر ایک خوبی یہ تھی کہ خلیفہ وقت کو دعا کے لئے لکھو۔اپنے انسپکٹر ان کو بھی کہا کرتے تھے کہ جب باہر دوروں میں جاؤ تو