خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 457
خطبات مسر در جلد دہم 457 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جولائی 2012ء اینٹوں کا ضرور کر دار ادا کیا ہے جنہیں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تربیت سے فیض پانے کی توفیق عطا ہوئی ہے اور ان لوگوں نے بے نفس ہو کر جماعت کی خدمت کی توفیق پائی ہے۔آج جو ہم پھل کھا رہے ہیں اس میں ان پرانے لوگوں کی خدمات کا بہت بڑا حصہ ہے، بے نفس خدمات کا بہت بڑا حصہ ہے۔اس کے علاوہ بھی کچھ وفات یافتگان ہیں اُن کا بھی ذکر ہوگا۔مختصراً کچھ پہلو میں مکرم و محترم چوہدری شبیر احمد صاحب کے بیان کر دیتا ہوں۔22 جولائی 2012ء کو 95 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ کے والد حضرت حافظ عبدالعزیز صاحب اور والدہ حضرت عائشہ بیگم صاحبہ دونوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے صحابہ میں سے تھے۔لیکن ان کے دادا نے خلافت ثانیہ میں بیعت کی تھی۔ان کے دادا چوہدری نبی بخش صاحب ریاست جموں کے باوقار زمیندار تھے اور مسلمانوں پر بعض پابندیوں کے باعث ملکہ وکٹوریہ کے زمانے میں یہ ہجرت کر کے سیالکوٹ آگئے۔چوہدری شبیر صاحب کے والد جو تھے وہ بھی بلند اخلاق فاضلہ والی شخصیت تھے۔حافظ قرآن ہونے کی وجہ سے اپنے علاقے میں بڑے نمایاں تھے۔اس لئے اپنے بچوں کی تربیت بھی انہوں نے بڑے دینی ماحول میں کی ہے۔چوہدری شبیر صاحب نے ابتدائی تعلیم سکاچ مشن مڈل سکول سیالکوٹ سے حاصل کی اور 1931ء میں آٹھویں جماعت کا امتحان پاس کیا تو والد صاحب نے تربیت کی خاطر ان کو قادیان بھیج دیا۔میٹرک انہوں نے تعلیم الاسلام سکول قادیان سے کیا۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی صحبت میں رہے، فائدہ اُٹھایا، نظمیں پڑھنے کا بھی خوب شوق تھا، بڑا موقع ان کو ملتا رہا۔علاوہ اور نظموں کے پہلی دفعہ انہوں نے قادیان میں سیرت النبی کے موقع پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تقریر سے پہلے نظم پڑھی۔پھر جب انہوں نے میٹرک کر لیا تو چونکہ قادیان میں کالج نہیں تھا مرے کالج سیالکوٹ سے بی اے کا امتحان پاس کیا۔کچھ دیر آپ قادیان میں رہے۔اُس کے بعد حضرت مولوی شیر علی صاحب کے ساتھ دفتر میں کام کیا۔جبکہ حضرت مولوی شیر علی صاحب ترجمہ قرآن انگریزی میں مصروف تھے تو آپ ٹائیپنگ کا کام اُن کے ساتھ کرتے رہے۔پھر ملازمت کی تلاش میں لا ہور آئے۔کچھ صحافت میں بھی وقت گزارا۔اچھے معروف شاعر بھی تھے اور آواز بھی اچھی نظمیں اپنی لے میں پڑھا کرتے تھے۔گفتگو میں بڑی شائستگی، محنت کے عادی۔بہر حال نیکیوں کا ایک مجموعہ تھے۔1940ء میں ملٹری اکاؤنٹس کا امتحان پاس کیا اور یہ منتخب ہو گئے اور وہاں گیارہ سال کام کیا۔لیکن 1944ء میں اس عرصے کے دوران ہی انہوں نے اپنے آپ کو وقف کے لئے پیش کر دیا تھا۔لیکن حضرت مصلح موعودؓ نے