خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 443
خطبات مسرور جلد دہم 443 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 جولائی 2012ء اور کانگریس مین ایسے بھی تھے جو سیٹوں کی کمی کی وجہ سے کھڑے رہے ہیں۔ان کا وہاں بڑے سے بڑا ہال جو میٹر تھا اس میں کچھ ہمارے لوگ تھے اور کچھ یہ لوگ۔بڑے ہال تو وہاں اس طرح ہوتے نہیں۔یہ جو سب سے بہتر اور بڑا ہال ہے اور اس میں اچھے فنکشن ہوتے ہیں۔یہ ان کا گولڈ روم کہلاتا ہے۔سیٹوں کی کمی کی وجہ سے یہ لوگ کھڑے بھی رہے ہیں اور باقاعدہ وہ باتیں سنتے رہے ہیں جو شاید اُن کے مزاج کی نہیں تھیں کہ انصاف کرو۔جو میں نے باتیں کہیں وہ یہی تھیں کہ انصاف کرو۔انصاف کو اگر صحیح طرح سے قائم نہ کیا تو پھر تم لوگوں کی جتنی مرضی طاقت ہو سنبھال نہیں سکتے۔بڑی قو میں چھوٹی قوموں کا خیال رکھیں۔یہ چیز امن قائم کرنے کے لئے انتہائی ضروری ہے۔سلامتی کونسل اور یو این او میں برابری پر تمام قوموں کو بیٹھنا چاہئے۔دوسرے ملکوں کی دولت پر نظر نہ رکھیں۔تو یہ باتیں میں نے اُن کو کہیں تھیں اور یہ ایسی نہیں کہ جو کہا جائے کہ اُن کے مزاج کے بڑے مطابق تھیں اور یہ سب کچھ قرآنِ کریم کی تعلیم سے میں نے اُن کو بتایا۔میری تقریر کے بعد پہلے وہاں جو مسلمان کانگریس مین ہیں، جو افریقن امریکن ہیں، وہ مجھے کہنے لگے کہ مجھے تمہاری یہ بات بڑی اچھی لگی ہے کہ دوسروں کی دولت کو حرص کی نظر سے نہ دیکھو۔وہ لوگ بھی جانتے ہیں کہ کیا پالیسیز ہیں اور کس طرح دیکھا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس لیکچر کو جلدی چھپوا کے سب تک پہنچانا چاہئے۔اور ایک کانگریس مین کا تبصرہ یہ تھا کہ یہ پیغام ایسا ہے جس کی امریکہ کو آج ضرورت ہے۔پس ان لوگوں تک اسلام کی خوبصورت تعلیم پہنچا دینا محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوا ہے۔اثر ہوتا ہے یانہیں، یا عارضی طور پر اثر ہوا ہے تو کب زائل ہو جائے ، بات پر کان دھرتے ہیں یا نہیں ،لیکن ان پر اسلام کی خوبصورت تعلیم بہر حال واضح ہوگئی ہے۔پس اصل حمد اللہ تعالیٰ کی ہے جس نے یہ سامان پیدا فرمائے اور اس بات کو ہر احمدی کو یاد رکھنا چاہئے۔اسی طرح ان کے سیاستدانوں کو بھی مختلف ملاقاتوں میں میں نے انصاف قائم کرنے کی طرف توجہ دلائی۔اگر توجہ کر لیں گے تو دنیا بھی فسادوں سے محفوظ رہے گی اور یہ بھی۔اگر نہیں تو پھر خدا تعالیٰ کی تقدیر بھی اپنا کام کرے گی۔کینیڈا میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے سیکرٹری خارجہ نو جوان ہیں۔اُن کے اور اُن کی ٹیم کے اچھے تعلقات ہیں۔نئے لوگوں سے بھی اور پرانے تعلقات کو بھی انہوں نے قائم کیا ہے۔پس اُن کو بھی اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ اُس نے انہیں موقع دیا کہ جماعت کے کسی کام آ سکیں اور حق اور انصاف کی باتیں اُن تک پہنچا سکیں۔کئی پارٹی لیڈر اور سیاستدان وہاں آئے جن سے انہوں نے میری