خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 441 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 441

خطبات مسرور جلد دہم 441 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 جولائی 2012ء قرآنِ کریم کا پیغام پہنچائیں۔جب فنکشن ہو گیا تو ایک کانگریس مین نے جو ایک دوسرے( کانگریس مین ) سے بات کر رہا تھا جو ہمارے ایک احمدی نے سن لی کہ مسلمان لیڈروں کو اس طرح ہونا چاہئے کہ کھل کر بات کیا کریں اور حقیقت بیان کریں اور پر زور الفاظ میں کریں۔تو یہ بہر حال ایک تأثر تھا۔ان لوگوں کو بھی ، آج تک کسی مسلمان لیڈر کو، بلکہ حکومتوں کے سربراہوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے توفیق نہیں دی۔اس لئے نہیں دی کہ ان کو دین سے زیادہ دنیا کی طرف رغبت ہے۔پس نو جوان ہمیشہ اس سوچ کے ساتھ تعلقات رکھیں کہ ہم نے ان دنیاوی لیڈروں سے کچھ لینا نہیں بلکہ دینا ہے۔شکرگزاری کے جذبات سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے لئے ہوں اور پھر دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کس طرح بڑھتے رہیں گے۔یادرکھیں جماعت کے کاموں میں کبھی دنیا داری راس نہیں آتی۔اگر دنیا داروں کو اپنا سب کچھ سمجھ لیا تو جو خدا تعالیٰ ہے، جو انعام دینے والا ہے وہ ان انعاموں کو واپس لینے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔پس ہمارا مقصد تو ہمیشہ خدا تعالیٰ کی حمد اور اُس کی رضا ہونا چاہئے اور ہے، نہ کہ کسی دنیا دار سے تعلقات ہماری انتہاء ہے۔یہ کبھی نہ ہماری انتہا ہوئی ہے نہ ہے نہ انشاء اللہ ہوگی۔اور نہ ہی ہماری زندگی کا مقصد ان دنیا داروں سے کچھ حاصل کرنا اور ان تک پہنچنا ہے اور چاہے وہ امریکہ کا کیپیٹل ہل ہو یا کوئی اور ایوان ہو، وہاں کا فنکشن نہ کبھی ہماری زندگی کا مقصد رہا ہے اور نہ ہوگا اور نہ ہونا چاہئے۔یہ ہماری انتہا نہیں۔ہماری انتہا ہر احمدی کو ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے۔وہ جتنا بھی پڑھا لکھا ہے اور لوگوں سے تعلقات ہیں کہ خدائے واحد کے آگے جھکنے والا دنیا کو بنانا ہے، یہ ہمارا انتہائی مقصود ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کو تمام ایوانوں اور ملکوں کے جھنڈوں سے اونچا کرنا ہے۔یہ ہمارا مقصد ہے۔ایم ٹی اے پر اکثر آپ نے دیکھا ہوگا اور رپورٹس میں بھی پڑھا ہو گا کہ جو کچھ میں نے وہاں کہا وہ قرآن کریم کی تعلیم کی روشنی میں کہا ہے اور اسلام کی تعلیم جو حق اور سچائی کی تعلیم ہے ، وہ کہنے کی کوشش کی ہے۔اس میں بھی میری کوئی خوبی نہیں۔میں تو اپنے آپ کو کم علم اور عاجز انسان سمجھتا ہوں لیکن جس مسیح موعود کی نمائندگی میں میں اس خطاب کے لئے گیا تھا، اُس کے ساتھ اور آپ کے آقا اور ہمارے آقا و مطاع حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ نصِرْتَ بِالرُّغب۔وہاں جاتے ہوئے کار میں جب میں دعا کر رہا تھا تو یہی خیال مجھے آیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ بڑا اونچا ایوان ہے اور اس