خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 438
438 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 جولائی 2012ء خطبات مسر در جلد دہم نے اُن لوگوں سے مجھے ملوایا یا کوئی فنکشن ارینج (Arrange) کیا تو مجھے خدا تعالیٰ نے توفیق دی کہ انہیں اسلام کی خوبصورت تعلیم بتاؤں اور حکمت سے ان ملکوں کے بڑوں کو جو د نیا کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں بتاؤں کہ دنیا کی رہنمائی کس طرح ہوسکتی ہے۔پس پہلی بات تو میں ہر جگہ کے نو جوانوں کو یہ کہنا چاہتا ہوں کیونکہ ابھی میں امریکہ اور کینیڈا کا دورہ کر کے آیا ہوں اس لئے وہاں کے نوجوانوں کو خاص طور پر کہ اپنے تعلقات کو ، اپنی کامیابیوں کو اپنی کسی خوبی پر محمول نہ کریں بلکہ خدا تعالیٰ کا فضل سمجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی تعریف کریں کہ اُس نے آپ کو یہ موقع دیا کہ تعلقات بنائیں۔اور ان تعلقات سے ہمارا مقصد اپنا ذاتی مفاد اُٹھانا نہیں ہے، نہ کبھی یہ ہونا چاہئے۔مقصد یہ ہے کہ دنیا کی رہنمائی ہو، دنیا کوحتی الوسع کوشش کر کے سیدھے راستے پر چلنے کے طریقے بتائے جائیں۔اگر وہ مان لے تو ٹھیک نہیں تو پھر کم از کم ہمارا فرض پورا ہو جاتا ہے۔دنیا کوفسادوں اور تباہی سے بچایا جائے کیونکہ جس نہج پر دنیا چل رہی ہے، اگر یہ جاری رہا تو یقیناً بہت بڑی تباہی آگے نظر آ رہی ہے۔دنیا کو خدا تعالیٰ کی طرف لایا جائے۔اگر کسی کے دل میں یہ خیال ہے کہ شاید ان تعلقات سے ہمارا کوئی مفاد وابستہ ہے یا ہماری کوئی اپنی قابلیت ہے جس کی وجہ سے یہ تعلقات بنے یا جماعت احمدیہ کی ترقی اس سے وابستہ ہے تو وہ بالکل غلط ہے۔جیسا کہ میں نے حمد کے مضمون میں وضاحت کی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کو ترقیات سے نوازے۔ان ترقیات کے حصول میں ہماری تو ادنی کوشش ہوتی ہے اور باقی جو نتائج حاصل ہو رہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے احسان کے رنگ میں ہور ہے ہوتے ہیں۔پس ہر کوشش کے پھل کسی کی ذاتی خوبی اور محنت سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی وجہ سے ہیں، بلکہ حقیقت میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی وجہ سے ہی ہیں۔اگر ہم اس سوچ کو قائم رکھیں گے تو فضل بڑھتے جائیں گے۔باقی ان دنیا داروں سے نہ ہم نے کچھ لینا ہے، نہ ہمارا یہ مقصد ہے۔میرے امریکہ کے دورے کی رپورٹس الفضل میں پڑھنے والوں نے تو پڑھ لی ہوں گی۔امریکہ میں اُس جگہ اور عمارت میں جو کیپیٹل بل (Capital Hill) کہلاتی ہے، جہاں امریکی کانگریس اور سینیٹ (Senate) بیٹھ کر اپنے ملکی اور دنیا کے فیصلے کرتی ہیں، جہاں اُس ملک کے اور بھی مختلف دفاتر ہیں ، وہاں ایک ہال میں فنکشن بھی ہوا تھا، جہاں میں نے انہیں مختصر خطاب کیا تھا۔ہمارے بعض مخالفین نے ، خاص طور پر پاکستان میں اسے