خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 437
خطبات مسرور جلد دہم 437 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 جولائی 2012ء بھی خدا تعالیٰ کی ذات کو سمجھتا ہے کہ اُس نے دوسرے کے دل میں نیک سلوک کرنے کا خیال ڈالا۔پس ایک حقیقی مومن کی سوچ ہر فائدہ پر چاہے وہ کسی بھی ذریعے سے پہنچ رہا ہوا سے خدا تعالیٰ کی ذات کی طرف لے جاتی ہے۔اور جب یہ صورت ہو تو وہی حقیقی حمد ہے جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں توجہ دلوائی ہے اور توجہ قائم کرنے کا فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے افراد جماعت کی اکثریت تو اس سوچ سے اللہ تعالیٰ کی حمد کرتی ہے اور کرنی چاہئے کہ ایمان بھی اس حقیقی حمد کے ساتھ ہی ترقی کرتا ہے لیکن من حیث الجماعت بھی ہمیں یہی سوچ رکھنی چاہئے کہ ہر موقع پر اللہ تعالی جو جماعت کو مختلف نہج پر آگے بڑھتا ہوا دکھاتا ہے تو اس کے لئے ہم اللہ تعالیٰ کی حمد کرنے والے بنیں اور ہمیشہ الحمد للہ کی حقیقی روح کو جاننے والے ہوں۔اور جب اس طریق پر ہر طرف حمد ہو رہی ہوگی تو یقینا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش بھی پہلے سے کئی گنا بڑھ کر برسے گی۔یہ حقیقی حمد انسان کے اندر ایک روحانی انقلاب بھی پیدا کرتی ہے۔باریک تر شرک سے بھی بچاتی ہے۔ایک انسان کو حقیقی عابد بناتی ہے اور پھر اُن حکموں کی تلاش کر کے اُن پر عمل کرنے کی طرف توجہ دلاتی ہے جن کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔انسانی قدروں کو اپنانے اور اعلیٰ اخلاق دکھانے کی طرف توجہ دلاتی ہے۔پس یہ حمد ہے جس کے کرنے کی ہمیں تلاش رہنی چاہئے۔گزشتہ جمعہ کے خطبہ میں جو میں نے کینیڈا میں دیا تھا، امریکہ اور کینیڈا کے نو جوانوں کا ذکر کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں تو فیق دی ہے کہ وہ جماعتی کاموں میں کافی ایکٹو (Active) ہوئے ہیں اور خاص طور پر تعلقات بڑھانے میں غیروں سے کافی آگے بڑھے ہیں۔اور پھر تعلقات کے بہتر نتائج بھی نکلے ہیں اور بہت سے پڑھے لکھے لوگوں سے اُن کے رابطے ہوئے ہیں۔اُن ملکوں کی بڑی شخصیات سے اُن کے رابطے ہوئے ہیں۔اور اُن رابطوں کی وجہ سے جب میں وہاں گیا تو مختلف لوگوں سے بھی مجھے ملایا گیا۔اُن سے ملنے کا موقع بھی دیا اور اکثر ہمارے مشن ہاؤس میں آکے وہیں ملتے رہے۔عمو م بڑے بڑے لوگ جن کے بارے میں خیال ہوتا ہے کہ نہیں آئیں گے، وہ لوگ جو ملکوں کی پالیسیز بناتے ہیں، جو دنیا پر حکومت کر رہے ہیں اور دنیا کے بارے میں پالیسیز بناتے ہیں، اُن کو بھی کچھ بتانے اور سمجھانے کا اور کہنے کا موقع ملا۔ان تعلقات کی وجہ سے یہ فائدہ ہوا۔اور اس میں جیسا کہ میں نے کہا ، بڑا کر دار نو جوانوں نے ادا کیا۔لیکن ان نو جوانوں کو جو خواہ امریکہ کے ہوں یا کینیڈا کے ہوں یا دنیا میں کسی بھی ملک کے ہوں ، میں یہ تو جہ بھی دلانی چاہتا ہوں کہ کسی دنیاوی تعلق کو اپنی بڑی کامیابی نہ سمجھیں۔ہاں ایک موقع اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیا کہ ان دنیا وی لوگوں تک آپ کی پہنچ ہو اور اُن تک حقیقی اور انصاف پر مبنی اسلام کی تعلیم پہنچے یا اگر آپ لوگوں