خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 434 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 434

خطبات مسرور جلد دہم 434 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 جولائی 2012ء آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : واضح ہو کہ حمد اس تعریف کو کہتے ہیں جو کسی مستحق تعریف کے اچھے فعل پر کی جائے۔نیز ایسے انعام کنندہ کی مدح کا نام ہے جس نے اپنے ارادہ سے انعام کیا ہو اور اپنی مشیت کے مطابق احسان کیا ہو۔اور حقیقت حمد کماحقہ صرف اُسی ذات کے لئے متحقق ہوتی ہے جو تمام فیوض وانوار کا مبدء ہواور علی وجہ البصیرت کسی پر احسان کرے نہ کہ غیر شعوری طور پر یا کسی مجبوری سے۔اور حمد کے یہ معنی صرف خدائے خبیر و بصیر کی ذات میں ہی پائے جاتے ہیں۔اور وہی محسن ہے اور اول و آخر میں سب احسان اُسی کی طرف سے ہیں۔اور سب تعریف اُسی کے لئے ہے، اس دنیا میں بھی اور اُس دنیا میں بھی۔اور ہر حمد جو اُس کے غیروں کے متعلق کی جائے ، اُس کا مرجع بھی وہی ہے۔“ (اردو ترجمه عربی عبارت از اعجاز مسیح بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد اول۔سورۃ فاتحہ۔صفحہ 75-74۔مطبوعہ ربوہ) پس یہ وہ تفصیل ہے جس کا لفظ حمد حامل ہے۔اور جب ان باتوں کو سامنے رکھ کر الحمد لله کہا جائے تو وہ حقیقی حمد بنتی ہے جو ایک مومن کو خدا تعالیٰ کی کرنی چاہئے۔قرآنِ کریم میں یہ لفظ حمد بہت سی جگہوں پر اللہ تعالیٰ کی حمد کی طرف توجہ دلاتے ہوئے استعمال ہوا ہے۔بہر حال اس وقت میں اس اقتباس کے حوالے سے بات کروں گا، اس کی تھوڑی سی وضاحت کروں گا۔اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حمد کی وضاحت کے حوالے سے جن باتوں کی طرف توجہ دلائی ہے وہ یہ ہیں۔ایک تو یہ بات کہ ایسی تعریف جو کسی مستحق تعریف کے اچھے فعل پر ہو۔اور انسانوں میں سے بھی مختلف لوگوں کی تعریف ہوتی ہے۔لیکن فرمایا کہ جو تعریف کا مستحق ہے اور تعریف کا سب سے زیادہ مستحق اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کون ہو سکتا ہے؟ پس ایک بات تو یہ ذہن میں رکھنی چاہئے کہ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کی اس لئے ہیں کہ وہی سب سے زیادہ تعریف کا حقدار ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ ایسے انعام دینے والے کی تعریف جس نے اپنے ارادے سے انعام دیا ہو۔پس اللہ تعالیٰ کے انعام جب نازل ہوتے ہیں تو انعام حاصل کرنے والے کے اپنے عمل سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے ارادے سے ملتے ہیں۔اللہ تعالیٰ بعض دفعہ رحمانیت کا جلوہ دکھاتے ہوئے بغیر کسی عمل کے بھی نواز دیتا ہے یا اُس عمل سے ہزاروں گنا زیادہ بڑھا کر نوازتا ہے جتنا کہ عمل کیا گیا ہو یا پھر رحیمیت کے جلوے کے تحت اگر انعام دیتا ہے تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کے ارادے سے ہے۔اللہ تعالیٰ ہی بندے کو توفیق دیتا ہے کہ وہ کوئی کام کرے یا دعا کرے اور اُس کے نتیجے میں نیک نتائج ظاہر ہوں اور پھر اللہ تعالیٰ بندے کو