خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 430 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 430

خطبات مسر در جلد دہم 430 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 جولائی 2012ء صلح کی طرف قدم بڑھانا یہ چیز بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے والی ہے، انسان کو عہد شکور بنانے والی ہے۔پس یہ باتیں ہمیشہ ہر ایک کو یا درکھنی چاہئیں۔اس ماحول میں یہاں جب میں گھر سے باہر نکلتا ہوں تو بڑی تعداد میں بچے سڑکوں پر کھڑے ہوتے ہیں اور سلام سلام کی آواز میں ہر طرف سے آ رہی ہوتی ہیں۔نعرہ تکبیر بلند ہو رہے ہوتے ہیں تو یہ ماحول جو سلام اور سلامتی پھیلانے کا ہے یہ تو جنت کے ماحول کی طرف اشارہ ہے۔پس اس کو صرف ظاہری سلام تک نہ رکھیں بلکہ اس کو حقیقی اور گہری سلامتی کا ذریعہ بنائیں تا کہ یہ دنیا بھی جنت بنے اور آئندہ کی جنتوں کے بھی سامان پیدا ہوں۔بچے نعرہ تکبیر بلند کرتے ہیں ، اخلاص و وفا کے کے مختلف اظہار ہور ہے ہوتے ہیں اور بچوں میں عموماً یہ جوش زیادہ نظر آ رہا ہوتا ہے۔پس اس جوش و خروش کو قائم رکھنے کے لئے بڑے کوشش کریں اور کوشش یہی ہے کہ انہیں خود بھی اور بچوں کو بھی اس حقیقی روح کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔بچوں کو بھی بتائیں کہ اس کی حقیقی روح کیا ہے؟ سلام کی اور نعروں کی روح اور حقیقت اُس وقت واضح ہوگی جب بڑوں کے عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے کے لئے اور اپنے بھائیوں بہنوں کا حق ادا کرنے کی طرف توجہ پیدا کرنے والے ہوں گے۔پس اس ذمہ داری کو سب کو سمجھنا چاہئے۔انتظامیہ کو بھی انتظامی لحاظ سے میں توجہ دلانی چاہتا ہوں جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا۔یہ صرف امریکہ کے لئے نہیں ہے بلکہ آپ کے لئے، کینیڈا کے لئے بھی ہے کہ اپنی کمیوں اور کمزور یوں پر غور کر کے ایک فہرست بنائیں اور اُسے لال کتاب میں درج کریں اور اگلے سال کا پروگرام بناتے ہوئے ان باتوں کو مدنظر رکھیں۔اس مرتبہ مثلاً بہت سے خطوط مجھے اور بھی مختلف شکایتوں کے آ رہے ہیں کہ فلاں جگہ یہ کمی تھی بعورتوں میں کھانے میں یہ کمی تھی ، طریقے میں کمی تھی، الیکٹیٹس (Etiquates) میں کمی اور کمزوریاں تھیں لیکن ایک چیز جس نے جلسہ کے پروگراموں کو بھی بعض جگہ بہت خراب کیا وہ یہ ہے کہ اس مرتبہ آواز کا تقریباً تینوں دن کہیں نہ کہیں مسئلہ رہا ہے۔مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اتنے عرصہ سے آپ لوگ اُس جگہ پر جو جلسے منعقد کر رہے ہیں تو پھر یہ مسئلہ کیوں پیدا ہوا ہے؟ صرف آرام سے، بھولے منہ سے یہ کہہ دینا کہ غلطی ہوگئی اور یہ نہیں تھا اور وہ نہیں تھا، یہ کافی نہیں ہے۔اس کی وجوہات تلاش کریں تا کہ آئندہ یہ غلطیاں نہ ہوں۔مجھے تو یہ لگتا ہے کہ انتظامیہ کے بعض عہدیداروں کا آپس میں تعاون نہیں ہے اور کو آرڈی نیشن (Coordination) نہیں ہے جس کی وجہ سے یہ سب صورتحال پیدا ہوئی ہے۔اگر یہی صورتحال رہے