خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 429 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 429

خطبات مسرور جلد و هم 429 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 جولائی 2012ء کمی ہے اور سچائی سے کام نہ لینا ہے۔پس سچائی سے کام لیتے ہوئے میاں بیوی کو آپس میں ایک دوسرے کو اعتماد میں لینا چاہئے۔نوجوانوں میں آج کل جو نئے رشتے ہو رہے ہیں ، اگر ماں باپ کے کہنے پر وہ شادی کرتے ہیں تو پھر وفا سے نبھا ئیں اور اگر کہیں اور دلچسپی ہے تو نہ لڑکا لڑکی کی زندگی برباد کرے اور نہ لڑکی لڑکے کی زندگی برباد کرے۔شادی سے پہلے کھل کر اپنے والدین کو بتا دیں کہ ہم یہاں شادی نہیں کرنا چاہتے ،کہیں اور کرنا چاہتے ہیں۔ہمیشہ یادرکھیں کہ اسلام میں شادی کی بنیاد پاکیزگی پر ہے، دنیاوی باتوں پر نہیں ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرد کولڑ کی سے شادی کرنے کے لئے جو چار خصوصیات بتائی ہیں اُس میں سب سے زیادہ اہمیت آپ نے یہی دی کہ اُس کا دین دیکھو۔خوبصورتی نہ دیکھو، دولت نہ دیکھو، خاندان نہ دیکھو، دین دیکھو۔(صحيح البخارى كتاب النکاح باب الاكفاء في الدين حديث۔۔۔5090) پس جب لڑکے دین دیکھتے ہیں یا چاہتے ہیں کہ دیندار لڑکی ہو تو لڑکوں کو خود بھی دیندار ہونے کی ضرورت ہے۔اس کا ذکر میں مختلف خطبات نکاح میں بھی کرتا رہتا ہوں۔اگر لڑ کے دیندار ہوں گے، لڑکیاں دیندار ہوں گی تو تبھی ہم اُس حقیقی خوشی اور شکر گزاری کو حاصل کرنے والے بنیں گے جو جماعت احمدیہ کے قیام کا مقصد ہے۔ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہماری بنیاد پاکیزگی پر ہے۔دنیاوی چیزوں پر، دنیاوی باتوں پر نہیں۔یہاں کے آزاد ماحول کا اثر لے کر اپنی زندگیوں کو بے چین نہ کریں۔یہ نہ سمجھیں کہ یہ لوگ بڑے خوش ہیں۔یہ عارضی طور پر چند سالوں کے لئے تو خوش رہتے ہیں۔اس کے بعد ان میں بھی بے چینیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔پس آخری نتیجہ بے چینی کی صورت میں نکلتا ہے۔اس لئے شروع ہی سے اپنی سوچوں کو پاک اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق چلانے والا بنائیں۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ دنیاوی لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت سے خاندانوں میں گھروں میں بہتری آئی ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے اس فضل کو بھی یا درکھیں۔دنیا میں اور اس کی چکا چوند میں نہ پڑ جائیں بلکہ ہمیشہ یادرکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فضل آپ پر فرمایا ہے۔اپنی بنیاد کو ہمیشہ یادرکھیں۔اپنی اصل کو ہمیشہ یادرکھیں۔اپنے ماضی پر ہمیشہ نظر رکھیں اور پھر دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو فضل فرمائے ہیں وہ کیا کیا ہیں۔اور یہ فضل پھر آپ کو اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بنانے والے ہونے چاہئیں۔ایک حقیقی مومن وہی ہے جو ان باتوں کو یادرکھ کر پھر اللہ تعالی کے فضلوں کا شکر گزار بنتا ہے۔اسی طرح اب اگر شکر گزاری کے مضمون پر عمل شروع کیا ہے تو یہ بھی یادر کھیں کہ بھائیوں بھائیوں، دوستوں، قرابت داروں میں جو رنجشیں ہیں اُن کو بھی دور کریں کہ یہ رنجشیں دور کرنا اور