خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 428 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 428

خطبات مسر در جلد دہم 428 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 جولائی 2012ء عمل خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والا ہوگا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے میرے دورے کے مثبت نتائج بھی یہاں نکلے ہیں۔امریکہ میں بھی اور یہاں بھی اور نکل رہے ہیں۔بعض بچیوں نے امریکہ میں مجھے لکھا جو وہیں پیدا ہوئیں اور پلی بڑھی ہیں اور یہاں کی بچیوں نے بھی لکھا اور خطوط اب بھی آ رہے ہیں کہ آپ کی باتیں سن کر ہمیں عورت کے تقدس کا لڑکی کے تقدس کا ، اُس کی حیا کا احساس ہوا ہے۔اب ہمیں اپنی اہمیت پتہ لگی ہے۔پردہ کی اہمیت پتہ لگی ہے۔ایک احمدی لڑکی کے مقام کا پتہ لگا ہے۔اسی طرح نو جوانوں نے یہ بھی لکھا کہ نماز کی اہمیت کا پتہ چلا ہے۔بعض لڑکیوں نے لکھا کہ ہم مجھتی تھیں کہ اس ماحول میں رہتے ہوئے برقع اور حجاب کی ہمت ہم میں کبھی پیدا نہیں ہو سکتی۔لیکن آپ کی باتیں سننے کے بعد جب ہم آپ کے سامنے حجاب اور برقعہ اور کوٹ پہن کر آئی ہیں تو اب یہ عہد کرتی ہیں کہ کبھی اپنے برقعہ نہیں اتاریں گی۔پس یہ سوچ ہے۔اللہ تعالیٰ اس سوچ کو عملی رنگ میں ہمیشہ قائم رکھے اور وہ اپنے تقدس کی حفاظت کرنے والی ہوں جیسا کہ انہوں نے یہ عہد کیا ہے کہ ہم اپنے تقدس کی حفاظت کریں گی۔اسی طرح بعض نے ملاقات میں نمازوں کی طرف توجہ کا وعدہ کیا کہ آئندہ ہمارے سے کوئی شکایت نہیں پہنچے گی۔خطوط میں بھی لکھ کے دیا۔یہ بات مجھے خدا تعالیٰ کی حمد اور شکر کی طرف لے جاتی ہے کہ وہی ہے جو دلوں پر قبضہ رکھتا ہے۔وہی ہے جو دلوں کو پھیرنے کی طاقت رکھتا ہے۔وہی ہے جو زبان میں اثر قائم کرتا ہے۔اُس نے کس طرح ان بچیوں اور افراد کو خلیفہ وقت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی طرف مائل کیا ہے اور ایک عزم کے ساتھ وہ معاشرے میں اپنے مقام کی پہچان کروانے کے لئے اب کھڑی ہو گئی ہیں۔حالانکہ یہی چند دن پہلے جھجکنے والی اور شرمانے والی تھیں۔بعض سکولوں میں پریشان ہو جاتی تھیں۔پس جن میں یہ تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں، انہیں بھی اب اللہ تعالیٰ کے ساتھ شکر گزاری کا اظہار اس عہد کے ساتھ کرنا چاہئے کہ وہ اب اپنی اس پاک تبد یلی کو قائم رکھیں گی اور اس کے لئے خدا تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے اُس کے آگے جھکیں گی تا کہ یہ خصوصیت جوان میں پیدا ہوئی ہے وہ ہمیشہ قائم رہے۔اسی طرح جن مردوں اور نو جوانوں میں کوئی تبدیلی پیدا ہوئی ہے، وہ بھی اس سوچ کے ساتھ اپنی زندگی گزاریں کہ یہ پاک تبدیلی ہمیشہ اپنے اندر قائم رکھنی ہے۔پہلے بھی میں نے مختصر أخاوندوں کو بیویوں کے حقوق کی ادائیگی کی طرف توجہ دلائی ہے اور بیویوں کو خاوندوں کے حقوق کی طرف۔اس کے لئے یہ بھی یا درکھیں کہ آپس میں اعتماد کی فضا گھروں میں پیدا ہونی چاہئے۔کیونکہ آجکل گھروں میں جو بد مزگیاں پیدا ہورہی ہیں، رشتے ٹوٹ رہے ہیں وہ اعتماد کی فضاء میں