خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 424 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 424

خطبات مسر در جلد دہم 424 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 جولائی 2012ء کا سلسلہ جو تقریباً سوا سو سال پر پھیلا ہوا ہے، آج بھی اپنی خوبصورتی دکھا رہا ہے۔پس اس اخلاص و وفا کو کبھی مرنے نہ دیں۔اپنی نسلوں میں بھی جاری رکھنے کی کوشش کریں۔یہ اخلاص و وفا جہاں مجھے خدا تعالیٰ کا شکر گزار بناتے ہوئے اُس کی حمد کی طرف توجہ دلاتا ہے، اور آئندہ آنے والے خلفاء کو بھی انشاء اللہ تعالیٰ دلاتا رہے گا، وہاں افراد جماعت کو بھی شکر گزاری کی طرف متوجہ کرنے والا ہونا چاہئے تا کہ خلافت سے تعلق کا مضبوط اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والا رشتہ نسلاً بعد نسل قائم ہوتا چلا جائے۔پس جیسا کہ میں نے کہا، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اُس نے جماعت کے اخلاص و وفا کو قائم رکھا ہوا ہے اور دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں یہ تعلق ہر احمدی میں نظر آتا ہے۔اس کے نظارے اس دورہ میں میں نے امریکہ میں بھی دیکھے اور یہاں بھی۔بچوں میں بھی اور بڑوں میں بھی ،مردوں میں بھی اور عورتوں میں بھی ، نوجوانوں میں بھی ، بوڑھوں میں بھی دیکھ رہا ہوں۔امریکہ کو دنیا بجھتی ہے کہ وہاں صرف مادی سوچ رکھنے والے لوگ رہتے ہیں اور دین سے اتنا تعلق نہیں ہے۔لیکن جس اخلاص و وفا کے ساتھ میرے دو ہفتے کے قیام کے دوران وہاں کے احمدیوں نے ، جہاں بھی میں ہوتا تھا ، وہاں پہنچ کر اخلاص و وفا کا اظہار کیا ہے۔نوجوان ڈیوٹی دینے والوں نے دو ہفتے مستقل میرے ساتھ رہ کر اور سفر میں بھی ساتھ رہ کر اپنے کاروباروں اور نوکریوں کو بھی بعضوں نے داؤ پر لگا دیا یا بالکل پرواہ نہیں کی۔ایسے بھی تھے جنہوں نے مجھے بتایا کہ ہماری نوکری نئی شروع ہوئی تھی اور جلسے کے لئے اور آپ سے ملاقات کے لئے رخصت نہیں مل رہی تھی تو ہم چھوڑ کر آ گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان تمام کے لئے بھی آسانیاں پیدا فرمائے اور ان کے اموال و نفوس اور اخلاص میں بے انتہا برکت عطا فرمائے۔پس یہ اخلاص و وفا اللہ تعالیٰ کی حمد کی طرف لے جاتا ہے اور ساتھ ہی میں ان لوگوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے جلسے کے دوران امریکہ میں بھی، کینیڈا میں بھی ، مختلف شعبہ جات میں بڑے اخلاص و وفا کے ساتھ اپنی ڈیوٹیاں دی ہیں اور تمام جلسے میں شامل ہونے والوں کو بھی شکر یہ ادا کرنا چاہئے۔اور ان کے لئے دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ان سے ایسا سلوک فرمائے کہ بجائے کسی قسم کی بے چینی پیدا ہونے کے اُن کو ایسا سکون ملے، اُن پر ایسا فضل نازل ہو کہ انہیں پہلے سے بڑھ کر خدمت دین کی تو فیق ملے اور اس کی طرف توجہ پیدا ہو۔امریکہ کے مختلف شہروں میں میں گیا ہوں اور بڑے یقین سے میں کہہ سکتا ہوں کہ ان تمام جگہوں پر پرانے مقامی امریکنوں نے بھی اور نئے آنے والوں نے جو باہر سے آ کر آباد ہوئے ہیں، اُنہوں نے