خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 423
خطبات مسرور جلد دہم 423 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 جولائی 2012ء بھی رہنے والے احمدی ہیں، اُن کی حقیقی شکر گزاری تبھی ہوگی جب مکمل طور پر اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔مرد ہوں یا عورتیں، جب تک قرآنِ کریم کی حکومت کو اپنے اوپر لاگو کرنے کی کوشش نہیں کریں گے ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کئے گئے عہد بیعت کی شرائط پر عمل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے، اللہ تعالیٰ کے حقیقی شکر گزار نہیں بن سکتے۔اللہ تعالیٰ شکرگزاری کے یہ معیار حاصل کرنے کی ہر احمدی کو تو فیق عطا فرمائے۔پس اپنے جائزے لیں، اپنے ماحول پر نظر ڈالیں، اپنے گھر پر نظر ڈالیں اور دیکھیں کہ یہ شکر گزاری کس حد تک آپ کے ماحول میں ، آپ کے گھر میں ، آپ کے اندر قائم ہے؟ اگر خاوند بیوی کا حق ادا نہیں کر رہا تو بیشک وہ دوسری نیکیاں کر بھی رہا ہے، وہ حقیقی شکر گزار نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے اُسے بیوی دی ، بچے دیئے ہیں، اُن کا حق ادا کرنا اُس کی ذمہ داری ہے۔ایسی ذمہ داری ہے جو خدا تعالیٰ نے اُس پر ڈالی ہے۔یہ کوئی دنیاوی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈالی گئی ذمہ داری ہے۔اسی طرح اگر بیویاں اپنے خاوند کے حقوق ادا نہیں کر رہیں تو وہ بھی خدا تعالیٰ کی نعمتوں کی شکر گزاری کی نفی کر رہی ہیں یا نعمتوں کی نفی کر رہی ہیں اور یہ فی اُنہیں پھر شکر گزاروں کی فہرست سے نکال رہی ہے۔پس جیسا کہ میں نے کہا، ہر فرد اور ہر گھر کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔پس جس دن ہم نے ہر سطح پر اپنے قول و فعل کو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بنالیا اُس دن حقیقی شکر گزاری کی حقیقی صورت پیدا ہو جائے گی۔اور پھر ہر انسان پر ، دینی طور پر بھی اور دنیاوی طور پر بھی خدا تعالیٰ کے فضلوں اور احسانوں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو جائے گا۔صرف دنیاوی کشائش کو کافی نہ سمجھیں، ایک احمدی کا فرض ہے کہ اُس کو روحانیت میں بھی ترقی کرنی چاہئے۔میں شکر گزاری کے اُس مضمون کا جس کا مجھ سے تعلق ہے، اُس کا بھی اظہار کرتا ہوں، کیونکہ یہ بھی ضروری ہے۔سب سے پہلے تو میں خدا تعالیٰ کا شکر کرتا ہوں کہ اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایسی جماعت عطا فرمائی ہے جس کا خلافت سے انتہائی وفا کا تعلق ہے۔اخلاص و وفا کے جس تعلق کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے براہِ راست فیض پانے والے لوگوں نے شروع کیا تھا اور جس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ افرادِ جماعت کے اخلاص و وفا کو دیکھ کر ہمیں حیرت ہوتی ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 4 صفحہ 39۔ایڈیشن 2003ء۔مطبوعہ ربوہ) یہ الفاظ میرے ہیں۔کم و بیش انہی الفاظ میں آپ نے فرمایا تھا۔پس یہ حیرت انگیز اخلاص و وفا