خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 422 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 422

خطبات مسرور جلد دہم 422 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 جولائی 2012ء ہے کہ اگر تم اس طرح شکر گزار ہو گے تو لأزِيدَنَّكُم میں تمہیں اور دوں گا، اس کو حاصل کرنے والے بنو گے۔پس جب لوگ مجھے لکھتے ہیں اور ملاقاتوں میں بتاتے ہیں کہ جلسہ گاہ میں بڑا فائدہ ہوا، بڑا لطف آیا تو یہ لطف اور فائدہ تبھی فائدہ مند ہے جب اس کے نتیجے میں ہر احمدی پہلے سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنے والا اور اُس کی عبادت کرنے والا بنتا چلا جائے۔اللہ تعالیٰ کے پیار کو جذب کرنے کے لئے پہلے سے زیادہ کوشش کرے۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور احسانوں اور انعاموں کی ایک فہرست بنائے اور اپنے سامنے رکھے۔جن نیکیوں کے کرنے کی توفیق ملتی ہے ، پکا ارادہ کرے کہ اب ان پر میں نے قائم رہنا ہے۔برائیوں کی فہرست بنا کر پھر ان سے بچنے کی کوشش کرے۔اپنی تمام تر صلاحیتوں اور قوتوں کے ساتھ یہ کوشش ہونی چاہئے۔اور پھر اللہ تعالیٰ کے ان احسانوں اور انعاموں کو یاد کر کے اللہ تعالیٰ کی حمد سے اپنی زبان کو تر کرتا چلا جائے اور ہمیشہ اس بات پر قائم رہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور انعاموں کا غلط استعمال نہیں کرنا۔اللہ تعالیٰ نے اگر اس ملک میں آکر بہتر حالات کر دیئے ہیں، مالی کشائش دے دی ہے تو اس مالی کشائش کو بجائے غلط کاموں میں استعمال کرنے کے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے استعمال کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے امریکہ میں تو ایسے لوگ بہت ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے بے انتہا مالی کشائش سے نوازا ہے۔اُن میں سے بعض ایسے ہیں جو انتہائی فراخ دلی سے جماعتی منصوبوں پر خرچ کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اُن کے اموال ونفوس میں برکت عطا فرمائے۔اُنہیں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور احسانوں کو یاد رکھ کر اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ بننے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے۔صرف مالی قربانی کو ہی اپنی شکر گزاری کی انتہا نہ سمجھیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنے والا بننے کی بھی بے انتہا کوشش کرنی چاہئے۔حقیقی شکر گزار اور عبد رحمان بننے کے لئے عبادت گزار ہونا بھی ضروری ہے۔کینیڈا میں اس حد تک مالی کشائش رکھنے والے لوگ کم ہیں یا یوں کہنا چاہئے کہ مالی کشائش میں اُس حد تک نہیں پہنچے ہوئے جتنے امریکہ میں ہیں یا کم از کم میرے علم میں نہیں لیکن یہاں مجموعی طور پر مالی قربانیوں کا معیار اللہ تعالیٰ کے فضل سے کافی بلند ہے۔لیکن اس کے ساتھ ہی بعض اور عملی کمزوریاں اور عبادتوں میں کمزوریاں بھی کافی ہیں۔اگر خدا تعالیٰ کا حقیقی شکرگزار بننا ہے تو ان کمزوریوں کو دور کرنا بھی ضروری ہے۔پس چاہے امریکہ کے رہنے والے احمدی ہیں یا کینیڈا کے رہنے والے احمدی ہیں یا دنیا میں کہیں