خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 413
خطبات مسر در جلد دہم 413 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6 جولائی 2012ء شکر گزار بندے بنہیں کہ یہ شکر گزاری پھر خدا تعالیٰ کی محبت کو جذب کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔اس ملک میں آ کر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے دنیاوی لحاظ سے جو دروازے کھلے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ کے انعامات کے حصول کا ذریعہ بنائیں نہ کہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا۔اللہ تعالیٰ نے تو یہ فرمایا ہے کہ تمہارا تقویٰ تمہارے لئے عزت کا مقام ہے۔یہ نہیں فرمایا کہ تمہارا پیسہ، تمہاری دولت تمہارے لئے عزت کا مقام ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ اكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُمْ (الحجرات: 14) کہ اللہ کے نزدیک تم میں سے زیادہ معزز وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ہم اکثر سنتے ہیں، اکثر ہماری تقریروں میں ذکر کیا جاتا ہے، مقررین اس کا ذکر کرتے ہیں لیکن جس طرح اُس پر عمل ہونا چاہئے وہ عمل نہیں ہوتا۔اگر صحیح طرح عمل ہو تو بہت سارے مسائل ، بہت ساری جھگڑے جو جماعت کے اندر پیدا ہو جاتے ہیں وہ خود بخود حل ہو جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : " إِنَّ اكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُمْ (الحجرات : 14) یعنی جس قدر کوئی تقوی کی دقیق را ہیں اختیار کرے اُسی قدر خدا تعالیٰ کے نزدیک اُس کا زیادہ مرتبہ ہوتا ہے۔پس بلا شبہ یہ نہایت اعلیٰ مرتبہ تقویٰ کا ہے کہ قبل از خطرات ، خطرات سے محفوظ رہنے کی تدبیر بطور حفظ ما تقدم کی جائے۔“ ( نور القرآن نمبر 2 روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 446) خطرہ آنے سے پہلے ہی خطرات سے بچنے کا طریقہ کیا جائے۔پھر فرمایا۔”مکرم ومعظم کوئی دنیاوی اصولوں سے نہیں ہوسکتا۔خدا کے نزدیک بڑا وہ ہے جو متقی تحفہ سالانہ یار پورٹ جلسہ سالانہ 1897 ء مرتبہ حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب صفحہ 50) پھر آپ فرماتے ہیں دینی غریب بھائیوں کو کبھی حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھو۔مال و دولت یا نسبی بزرگی پر بے جافخر کر کے دوسروں کو ذلیل اور حقیر نہ سمجھو۔خدا تعالیٰ کے نزدیک مکرم وہی ہے جو شقی ہے۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 135۔ایڈیشن 2003ء۔مطبوعہ ربوہ ) پھر آپ نے فرمایا کہ نجات نہ قوم پر منحصر ہے نہ مال پر ، بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے“ اور فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل کے حاصل کرنے کیلئے کیا کرنا ہے اور اس کو اعمالِ صالحہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل اتباع اور دعائیں جذب کرتی ہیں۔“ ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 445۔ایڈیشن 2003ء۔مطبوعہ ربوہ )