خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 409
خطبات مسر در جلد دہم 409 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6 جولائی 2012ء لئے پیدا کیا ہے کہ وہ مجھے پہچانیں اور میری پرستش کریں۔پس اس آیت کی رُو سے اصل مدعا انسان کی زندگی کا خدا تعالیٰ کی پرستش اور خدا تعالیٰ کی معرفت اور خدا تعالیٰ کے لئے ہو جانا ہے۔(اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 414) یہ تو ظاہر ہے کہ انسان کو تو یہ مرتبہ حاصل نہیں ہے کہ اپنی زندگی کا مدعا اپنے اختیار سے آپ مقرر کرے کیونکہ انسان نہ اپنی مرضی سے آتا ہے اور نہ اپنی مرضی سے واپس جائے گا بلکہ وہ ایک مخلوق ہے اور جس نے پیدا کیا اور تمام حیوانات کی نسبت عمدہ اور اعلیٰ قومی اس کو عنایت کئے ، اُس نے اس کی زندگی کا ایک مدعا ٹھہرا رکھا ہے، خواہ کوئی انسان اس مدعا کو سمجھے یا نہ سمجھے مگر انسان کی پیدائش کا مدعا بلا شبہ خدا کی پرستش اور خدا تعالیٰ کی معرفت اور خدا تعالیٰ میں فانی ہو جانا ہی ہے۔پس یہ وہ مقام اور معیار ہے جسے ہر احمدی نے حاصل کرنا ہے اور کرنا چاہئے ، اس کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔انسان خود جتنا چاہے اپنا مقصد بنالے اور اس کے حصول کے لئے کوشش کرے، اُس کی زندگی بے معنی ہے۔آجکل اپنے سکون کے لئے انہی اغراض کو پورا کرنے کے لئے دنیا میں اور خاص طور پر مغربی ممالک میں تو بیشمار طریقے ایجاد کرنے کی انسان نے کوشش کی جن کا ماحصل صرف بے حیائی ہے۔انسانی قدریں بھی اس قدر گر گئی ہیں کہ انسان ہر قسم کے تنگ اور بیہودگی کولوگوں کے سامنے کرتا ہے بلکہ ٹی وی پر دکھانے پر بھی کوئی عار نہیں سمجھا جاتا۔بلکہ بعض حرکات جانوروں سے بھی بدتر ہیں اور اسی کو فن اور سکون کا نام دیا جاتا ہے۔انہی کی حالت کا اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ یوں نقشہ بھی کھینچا ہے۔فرمایا b وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَذَانْ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَا أُولَئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُولَئِكَ هُمُ الْغُفِلُونَ (الاعراف: 180) اور یقیناً ہم نے جنوں اور انسانوں میں سے ایک بڑی تعداد کو جہنم کے لئے پیدا کیا ہے، اُن کے دل تو ہیں مگر ان کے ذریعہ سے وہ سمجھتے نہیں، یعنی روحانی باتیں سمجھنے کے قائل ہی نہیں ، اُن کی آنکھیں تو ہیں مگر اُن کے ذریعہ سے وہ دیکھتے نہیں، اُن کے کان تو ہیں مگر ان کے ذریعے سے وہ سنتے نہیں ، نہ ان کے دلوں میں روحانیت بیٹھتی ہے ، نہ اُن کے کان روحانیت کی باتیں، دینی باتیں سننے کے قائل ہیں نہ نیک چیزیں اور وہ چیزیں دیکھنے کی طرف توجہ دیتے ہیں جس کی طرف خدا تعالیٰ نے دیکھنے کا کہا ہے اور نہ اُن سے دیکھنے سے رُکتے ہیں جن سے خدا تعالیٰ نے رکنے کا کہا ہے۔گو یا مکمل طور پر دنیاوی خواہشات نے اُن پر غلبہ حاصل کر لیا ہے۔فرمایا کہ وہ لوگ چارپایوں کی طرح ہیں بلکہ اُن سے بھی بدتر ، اور