خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 406 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 406

خطبات مسرور جلد دہم 406 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6 جولائی 2012ء مجالس اور آپس کے تعلقات اور خدا تعالیٰ کی شکر کی ادائیگی کا حال ہونا چاہئے۔پس خوش قسمت ہیں ہم میں سے وہ جو اس روح کے ساتھ یہاں آتے ہیں، اس کے مطابق عمل کرتے ہیں اور نتیجتاً نہ صرف اپنے لئے جنت کے باغوں کے دروازے کھولتے ہیں بلکہ حقوق العباد کی ادائیگی کی وجہ سے دوسروں کے لئے بھی جنت کے باغوں میں چرنے کا ذریعہ بنتے ہیں اور پھر مزید برکتوں کے سامان ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والا ایک مومن بنتا ہے کیونکہ دوسروں کو نیکی کا راستہ دکھانے والا یا کسی پر نیکی کر کے اُسے اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کی طرف توجہ دلانے والا بھی اُسی قدر نیکی کے ثواب کا مستحق بن جاتا ہے جتنا نیکی کرنے والا۔گویا ایک نیکی نیک نتائج کی وجہ سے کئی گنا نیکیوں کا ثواب دلوا کر پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں کا وارث بناتی چلی جاتی ہے۔پس یہ ہے ہمارا پیارا خدا جو نیکیوں کو سینکڑوں گنا، ہزاروں گنا پھل لگاتا ہے اور اپنے بندے کی معمولی کوشش کو بھی اس قدر بڑھا دیتا ہے کہ جو انسانی تصور سے بھی باہر ہے۔پس اس پیارے خدا کے پیار کی تلاش ہر ایک کو کرنی چاہئے۔اور جیسا کہ میں اکثر کہتا رہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جلسوں کا انعقاد کر کے ہمارے لئے برکات کے راستے کھولے ہیں، جنت کے باغوں کی سیر کے لئے ایک وسیع اور بہترین انتظام فرما دیا ہے۔پس خوش قسمت ہوں گے ہم میں سے وہ جو اس مجلس اور اس ماحول سے فائدہ اُٹھا کر اللہ تعالیٰ کی رضا کے حاصل کرنے والے بن جائیں۔پس اس رضا کے حصول کے لئے جلسے میں شامل ہونے والے ہر مرد، عورت، جوان، بوڑھے اور بچے کو کوشش کرنی چاہئے۔افراد جماعت کو یہ مقام حاصل کرنے والا بنانے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دل میں کتنا دردتھا اور آپ کس تڑپ کے ساتھ اس کے لئے دعا کرتے تھے، اس کا اندازہ آپ کے ان الفاظ سے ہوتا ہے۔فرمایا: دعا کرتا ہوں اور جب تک مجھ میں دم زندگی ہے کئے جاؤں گا اور دعا یہی ہے کہ خدا تعالیٰ میری اس جماعت کے دلوں کو پاک کرے اور اپنی رحمت کا ہاتھ لمبا کر کے اُن کے دل اپنی طرف پھیر دے اور تمام شرارتیں اور کینے اُن کے دلوں سے اٹھا دے اور باہمی سچی محبت عطا کر دے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ دعا کسی وقت قبول ہوگی اور خدا میری دعاؤں کو ضائع نہیں کرے گا۔ہاں میں یہ بھی دعا کرتا ہوں کہ اگر کوئی شخص میری جماعت میں خدا تعالیٰ کے علم اور ارادہ میں بدبخت از لی ہے جس کے لئے یہ مقدر ہی نہیں کہ سچی پاکیزگی اور خدا ترسی اس کو حاصل ہو تو اس کو اے قادر خدا میری طرف سے بھی منحرف کر دے جیسا کہ وہ تیری طرف سے منحرف ہے اور اس کی جگہ کوئی اور لاجس کا دل نرم اور جس کی جان میں تیری طلب ہو۔“ (شہادۃ القرآن روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 398) وو