خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 407
خطبات مسرور جلد دہم 407 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 6 جولائی 2012ء پس یہ الفاظ آپ کے دلی درد کا ایسا اظہار ہے جو دل کو ہلا دیتا ہے۔رونگٹے کھڑے کرنے والا ہے، تو بہ اور استغفار کی طرف مائل کرنے والا ہے۔اور حقیقی رنگ میں خدا تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت اور بخشش کا طلبگار بنانے والا ہے۔حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ دلانے والا ہے۔پس ان دنوں میں ہم میں سے ہر ایک کو تو بہ اور استغفار، درود اور ذکر الہی کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ نہ صرف ہمارے ایمانوں کو سلامت رکھے بلکہ ایمان و ایقان اور تقویٰ میں ترقی کرنے والا بناتا چلا جائے۔ہمارے استغفار خالص استغفار بن جائیں۔ہماری نمازیں اور عبادتیں حقیقی نمازیں اور عبادتیں بن جائیں۔ہماری حقوق العباد کی ادائیگی خالصہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہو جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد کو بھی ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔آپ فرماتے ہیں:۔” جب تک دل فروتنی کا سجدہ نہ کرے صرف ظاہری سجدوں پر امید رکھنا طمع خام ہے۔یونہی جھوٹی خواہش ہے کہ ہم بڑے سجدے کر رہے ہیں اور ہماری دعائیں اللہ تعالیٰ قبول کر لے۔فرمایا: ” جیسا کہ قربانیوں کا خون اور گوشت خدا تک نہیں پہنچتا صرف تقویٰ پہنچتی ہے، ایسا ہی جسمانی رکوع وسجود بھی پیچ ہے جب تک دل کا رکوع و سجود و قیام نہ ہو۔فرمایا ” دل کا قیام یہ ہے کہ اس کے حکموں پر قائم ہو اور رکوع یہ کہ اس کی طرف جھکے اور سجود یہ کہ اس کیلئے اپنے وجود سے دست بردار ہو۔“ (شہادۃ القرآن روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 398) پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ہم سے، اپنے ماننے والوں سے، اپنی جماعت سے یہ خواہش ہے کہ تقویٰ کا مقام حاصل ہو اور اس کے لئے بڑے درد سے آپ نے یہ دعا فرمائی۔اللہ کرے ہم اس مقام کو حاصل کرنے والے بنیں۔ہمارے دنیا کے دھندوں میں بہت زیادہ پڑ جانے اور تقویٰ سے دور ہونے کی وجہ سے ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے انقلابی مشن میں روک پیدا کرنے والے نہ بن جائیں۔ہم حقوق اللہ اور حقوق العباد کی پامالی کرنے والے نہ بن جائیں۔ہم آپ کی روح کے لئے تکلیف کا باعث نہ بن جائیں۔پس اس جلسے کی برکات سے بھر پور فائدہ اُٹھانے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہشات اور دعاؤں کا وارث بننے کے لئے ہر احمدی کو ایک نئے عزم کے ساتھ یہ عہد کرنا چاہیئے اور اس کے لئے بھر پور کوشش کرنی چاہئے کہ ہم اپنے معیار تقویٰ کو بڑھاتے چلے جانے کی کوشش کرتے چلے جائیں گے۔