خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 35
خطبات مسر در جلد دہم 35 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 جنوری 2012 ء اس کی حقیقی تصویر ہم بھی بن سکتے ہیں، حقیقی مومن ہونے والے ہم تبھی کہلا سکتے ہیں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق ہیں، ہم آپ کی نصائح اور ارشادات پر عمل کرنے والے ہوں۔آپ کو جو ہمارے سے توقعات ہیں اُن پر پورا اترنے کی کوشش کرنے والے ہوں۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعض نصائح لی ہیں جو ہماری دینی اور روحانی حالتوں کو سنوارنے کے لئے بلکہ دنیاوی ترقی کے لئے بھی ضروری ہیں۔اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اگر ہم آپ کی باتوں پر پوری طرح توجہ کر کے اُن پر عمل کرنے کی کوشش نہیں کرتے تو ہم حقیقی متبع نہیں کہلا سکتے ، اتباع کرنے والے نہیں کہلا سکتے۔اس زمانے میں ایک بہت بڑا کام جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سپرد ہوا ہے، وہ اسلام کا پیغام ساری دنیا کو دینا ہے اور یہی آپ کے ماننے والوں کا کام ہے۔لیکن اس کے لئے ہمیں اپنے آپ کو نمونہ بنانے کی ضرورت ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے کہ اپنی حالتوں کو پہلے ایسا کرو کہ دوسروں پر اثر ڈال سکیں تبھی تمہارا اثر پڑے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ ہمیں اپنے قول و فعل کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : اگر نرے قیل و قال اور ریا کاری تک ہی بات ہو تو دوسرے لوگوں اور ہم میں پھر کیا امتیاز ہوگا اور دوسروں پر کیا شرف ! تم صرف اپنا عملی نمونہ دکھاؤ اور اس میں ایک ایسی چمک ہو کہ دوسرے اس کو قبول کر لیں کیونکہ جب تک اس میں چمک نہ ہو کوئی اس کو قبول نہیں کرتا۔“ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 116 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ) پس یہ نفس کی ظاہری و باطنی صفائی کی چمک ہے جو ہم نے اپنی حالتوں میں پیدا کرنی ہے تا کہ عہد بیعت کو نبھانے والے بن سکیں۔آپ کی بیعت کا حقیقی حق ادا کرنے والے بن سکیں۔پھر ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ : اگر ہم نری باتیں ہی باتیں کرتے ہیں، تو یا درکھو کہ کچھ فائدہ نہیں ہے۔فتح کے لئے ضرورت ہے تقویٰ کی۔فتح چاہتے ہو تو متقی بنو۔( ملفوظات جلد 1 صفحہ 151-152 ایڈیشن 2003 مطبوعد ربوہ ) پھر آپ نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ متقی کو پیار کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کی عظمت کو یادکر کے سب تر ساں رہو (اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھو۔اُس کا پیار اور اُس کی خشیت دل میں پیدا کرو) فرمایا کہ ” اور یا درکھو کہ سب اللہ کے