خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 399 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 399

خطبات مسرور جلد دہم 399 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جون 2012ء پس آپ کے فیصلوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھنے والے ہم تبھی ٹھہر سکتے ہیں جب آپ کی ہر بات کی ہم کامل پیروی کرنے کی کوشش کریں۔آپ نے واضح فرما دیا کہ آپ کی باتوں اور فیصلوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھنے والے اور اُن پر عمل کرنے والے صرف آپ کی باتوں کی عزت کرنے والے نہیں ہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو عزت و عظمت سے دیکھنے والے ہیں۔پس یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم نے اُس امام کو مان لیا جس نے ہر بات کھول کر ہمارے سامنے رکھ دی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کی تھی تا کہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں سمجھنے میں غلطی لگی ہے۔پس ایک احمدی جب بیعت کرتا ہے تو اپنی ذمہ داریوں پر ہمیشہ نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔دنیاوی خواہشات اور دنیاوی ترجیحات اُسے عہد بیعت سے دور لے جاتی ہیں اور حقیقت میں ایسے شخص کا عہد بیعت ، عہد بیعت نہیں رہتا۔پس اس جلسے کے دنوں میں اس پہلو سے بھی ہر احمدی کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔جماعت کو نصائح کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ : " خدا تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے اور اس کی تائید میں صدہا نشان اُس نے ظاہر کئے ہیں۔اس سے اُس کی غرض یہ ہے کہ یہ جماعت صحابہ کی جماعت ہو اور پھر خیر القرون کا زمانہ آجاوے“۔یعنی پہلی صدیوں کا وہ زمانہ آجائے جو بہترین زمانہ تھا۔جولوگ اس سلسلہ میں داخل ہوں چونکہ وہ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ (الجمعة: 4) میں داخل ہوتے ہیں اس لئے وہ جھوٹے مشاغل کے کپڑے اتار دیں اور اپنی ساری توجہ خدا تعالیٰ کی طرف کریں۔“ ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 67 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ) پس جب ہمیں اللہ تعالیٰ نے یہ خوشخبری دی ہے کہ مسیح موعود کے بعد دائمی خلافت کا سلسلہ بھی قائم رہنا ہے تو ہمیں اس سے فیض اٹھانے کے لئے خیر القرون کے زمانے کو بھی قائم رکھنے کی کوشش کرتے چلے جانا چاہئے۔ایک نسل کے بعد دوسری نسل میں وہ روح پھونکنی ہوگی اور پھونکتے رہنا چاہئے کہ ہم نے اپنے ہر قول وفعل کو خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالنا ہے۔اگر یہ نہیں ہو گا پھر ہم اُس عمدہ زمانے کی خواہش رکھنے والے نہیں ہوں گے جس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا ہے، بلکہ اندھیرے دور میں پھر ڈوبتے چلے جائیں گے۔پس اس کے لئے کوشش کرنے کی بھی بہت ضرورت ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ جہاں میرے ماننے والوں میں ذکر الہی میں خاص رنگ ہو وہاں آپس کے محبت و پیار میں بھی خاص رنگ ہو۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 2 صفحہ 167 ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ ) صرف ذکر الہی کا خاص رنگ نہیں ہے بلکہ آپس کے رشتوں میں ، آپس کے تعلقات میں جماعت