خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 392 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 392

خطبات مسر در جلد دہم 392 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جون 2012ء اُس کے بعد ایسٹ کلمتان کے ریجنل مبلغ تھے اور علمی آدمی تھے ماشاء اللہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب توضیح مرام کا انڈو نیشین ترجمہ کرنے کی انہوں نے سعادت پائی۔اس کے علاوہ یہ میرے خطبات کا با قاعدگی سے ترجمہ کیا کرتے تھے۔مرحوم موصی بھی تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔ان کی اہلیہ اور ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں۔دوسرا جنازہ ہماری لندن کی رہنے والی ایک پرانی خدمتگار خاتون مکرمہ طاہرہ ونڈرمین صاحبہ اہلیہ مکرم نواب محمود ونڈرمین صاحب مرحوم کا ہے۔ان کی بھی 18 جون 2012ء کو 84 سال کی عمر میں وفات ہوگئی إِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ مکرم غلام یسین صاحب کی صاحبزادی تھیں۔آپ کے نانا حضرت غلام دستگیر صاحب اور اُن کے بھائی بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی تھے۔ان کے والد انڈین حکومت کے سرونٹ تھے۔بچوں کی اچھی تربیت کی۔قادیان میں مرحومہ نے تعلیم پائی اور پھر 1947ء سے کراچی میں رہائش پذیر تھیں۔1949ء میں ان کی شادی ہوئی محمود ونڈر مین صاحب سے، انگلستان آگئیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی لندن ہجرت کے بعد پرائیویٹ سیکرٹری کے دفتر میں انہوں نے اپنی خدمات پیش کیں اور انگلش ڈاک ٹیم میں ایک لمبا عرصہ خدمت سرانجام دی اور جلسہ سالانہ میں خلیفہ رابع ” نے ان کا نام لے کے ان کے کام کی تعریف بھی کی تھی۔بڑی مستعدی سے خدمت کرتی تھیں۔کبھی کام کو بوجھ نہ سمجھتی تھیں، جتنا بھی دیا جا تاوہ کر کے لے آتیں۔وفات سے چندروز پہلے بھی اپنے عزیز کو دفتر بھجوایا کہ کام بھجوائیں۔ہمیشہ یہ مطالبہ ان کا ہوتا تھا کام زیادہ دیا جائے۔باوجود بیماری اور کمزوری کے بڑی محنت سے کام کرتی تھیں اور کسی وجہ سے اگر کام کم دیا جاتا تو بے چین ہو جایا کرتی تھیں۔اور میری ڈاک کا بھی انہوں نے لمبا عرصہ کام کیا ہے، یعنی گزشتہ بیس بائیس سال سے یہ کام کر رہی تھیں۔نو سال میں میں نے ان کو دیکھا ہے، ان کے ڈاک کے خلاصے ایک تو بڑے اچھی طرح بناتی تھیں جو اہم پوائنٹ ہوتے تھے اُن کو ہائی لائٹ کر دیتی تھیں اور ان کا خلاصہ پڑھتے ہوئے دقت نہیں ہوتی تھی اور نفس مضمون جو تھا خط لکھنے والے کا وہ بھی پہنچ جاتا تھا۔یہ ان کی بڑی خوبی تھی کہ خلاصہ بناتے ہوئے جہاں ضروری سمجھتی تھیں کہ اس پر ضرور نظر پڑنی چاہئے ، اُس کو ضرور ہائی لائٹ کرتی تھیں۔اور ان کے خلاصے مجھے اس لحاظ سے سب سے زیادہ اچھے لگتے تھے اور اُن کا جواب دینا بھی آسان ہوتا تھا۔اسی طرح ان کو اللہ تعالیٰ نے بیس سال تک بچوں کو قرآن کریم پڑھانے کی توفیق بھی عطا فرمائی۔اخبار احمد یہ کے لئے اردو مضامین کو انگریزی میں ترجمہ بھی کیا کرتی تھیں۔ان کے پسماندگان میں تین بیٹیاں اور دو بیٹے اور