خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 387 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 387

خطبات مسرور جلد دهم 387 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جون 2012ء میں سے بعض لوگ یا خطبات اور تقاریر نہیں سنتے یا سنتے ہیں اور بے دلی سے سنتے ہیں ، ایک کان سے سنا اور دوسرے سے نکال دیا تو اُس عہد بیعت کو پورا کرنے والے نہیں ہیں کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا، جو بھی معروف فیصلہ فرمائیں گے، اُس کی پابندی کروں گا، اُس کی کامل اطاعت کروں گا۔یہ اطاعت سے نکلنے والے عمل ہیں کہ ایک کان سے سنا اور دوسرے سے نکال دیا۔یہ کامل فرمانبرداری سے دور لے جانے والے عمل ہیں۔ایسے لوگوں کو خدا تعالیٰ نے بڑا انذار فرمایا ہے۔فرماتا ہے فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمُ عَنْ صَلَاتِهِمُ سَاهُونَ (الماعون : 5)۔پس اُن نمازیوں کے لئے ہلاکت ہے جو اپنی نمازوں سے غافل رہتے ہیں۔یہ غفلت نماز با جماعت کی طرف توجہ نہ دینے سے بھی ہے، باقاعدگی سے نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے بھی ہے۔پوری توجہ نماز میں رکھنے کی کوشش نہ کرنے کی وجہ سے بھی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ نماز میں بعض دفعہ تو جہ قائم نہیں رہتی لیکن بار بار اپنی تو جہ کونماز کی طرف لانا ضروری ہے اور یہ بھی ایک مطلب ہے اقامت الصلوۃ نماز کے کھڑی کرنے کا، نماز کے قیام کا۔پس بڑے خوف کا مقام ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ اصلوۃ والسلام نے ہمیں اس طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص جس نے مجھے نہیں مانا ،غلطیاں کرتا ہے تو بیشک وہ گناہگار ہے۔لیکن مجھے ماننے والے جو ایک عہد بیعت کرتے ہیں اور پھر اُس کی تعمیل نہیں کرتے ، زیادہ پوچھے جائیں گے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد چہارم صفحہ 182 ایڈیشن 2003 ء مطبوعہ ربوہ) پس ہر احمدی پر بہت بڑی ذمہ داری ہے اور یہ ذمہ داری ادا نہیں ہو سکتی جب تک یہ خیال نہ رہے کہ میں نے جو خدا تعالیٰ کو گواہ ٹھہرا کر ایک عہد بیعت باندھا ہے اس کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے آگے جواب دہ ہوں۔پس یہ خیال رہے تبھی ذمہ داری ادا ہوسکتی ہے۔پس بڑے بھی اپنی ذمہ داریاں سمجھیں اور چھوٹے بھی ، مرد بھی اور عور تیں بھی۔یہاں بہت سے گھروں میں بے سکونی کے جو حالات ہیں وہ اس لئے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی عبادت کی طرف توجہ نہیں ہے ، جس طرح تو جہ ہونی چاہئے۔بعض لوگ میرے سے جب ملاقات کرتے ہیں اور دعا کے لئے کہتے ہیں تو میں عموماً کہا کرتا ہوں کہ اپنے لئے خود بھی دعا کرو اور نمازوں کی طرف توجہ دو۔اور جب پوچھو کہ با قاعدگی سے نمازیں پڑھتے ہیں؟ تو بعض لوگوں کا جواب نفی میں ہوتا ہے۔ایسے لوگوں سے میں عموماً یہ کہا کرتا ہوں کہ دین کے ساتھ مذاق نہ کریں۔دین کو مذاق نہ سمجھیں کہ خود تو نمازوں اور دعاؤں کی عادت نہیں ہے، اس طرف کوئی توجہ نہیں ہے اور اپنے مسائل اور دنیاوی معاملات کے لئے دعا کے لئے