خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 33 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 33

خطبات مسرور جلد و هم 33 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 جنوری 2012ء ہوں ، ہر عمل جو تم کرتے ہوا سے میں جانتا ہوں کہ کس نیت سے کیا جا رہا ہے۔اگر تقویٰ پر چلتے ہوئے یہ کام ہیں تو یقینا اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کی آغوش میں لے لے گا۔اللہ تعالیٰ کا ہم پر یہ بڑا احسان ہے کہ اُس نے اس فساد زدہ زمانے میں مسیح موعود و مہدی معہود کو بھیجا۔زمانے کے امام کو بھیجا اور ہمیں یہ توفیق دی کہ اس کو مان کر اُس سے ہم نے یہ عہد کیا ہے کہ ہم اس زمانے میں اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق اپنے ایمان کو اُس معیار پر لائیں گے یالانے کی کوشش کریں گے جس کی تصریح اور تفسیر آپ نے قرآنِ کریم اور سنت کی روشنی میں ہمیں بیان فرمائی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: زبان کو جیسے خدا تعالیٰ کی رضامندی کے خلاف کسی بات کے کہنے سے روکنا ضروری ہے۔اسی طرح امر حق کے اظہار کے لئے کھولنا لازمی امر ہے۔( یعنی اگر برائیوں سے زبان کو روکنا ضروری ہے تو حق بات کو کہنے کے لئے زبان کو کھولنا، منہ کھولنا، اُس کو استعمال کرنا بھی ضروری ہے) فرمایا کہ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَ يَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ (آل عمران: 115) مومنوں کی شان ہے۔آمر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے سے پہلے ضروری ہوتا ہے کہ انسان اپنی عملی حالت سے ثابت کر دکھائے کہ وہ اُس قوت کو اپنے اندر رکھتا ہے (جب یہ باتیں کر رہے ہیں تو اپنی عملی حالت سے یہ ثابت کرنا بھی ضروری ہے کہ یہ نیکیاں جو میں کہ رہا ہوں میرے پاس موجود ہیں ) فرمایا ” کیونکہ اس سے پیشتر کہ وہ دوسروں پر اپنا اثر ڈالے اس کو اپنی حالت اثر انداز بھی تو بنانی ضروری ہے۔پس یا د رکھو کہ زبان کو آمر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے کبھی مت روکو۔ہاں محل اور موقع کی شناخت بھی ضروری ہے اور اندازِ بیان ایسا ہونا چاہیے جو نرم ہو اور سلاست اپنے اندر رکھتا ہو اور ایسا ہی تقویٰ کے خلاف بھی زبان کا کھولنا سخت گناہ ہے۔“ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 281 282 ایڈیشن 2003 ء مطبوعہ ربوہ ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو ماننے کے بعد ہماری ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں کہ ہم یہ معیار حاصل کریں اور ہمارا ہر قول اور فعل نیکیاں بکھیر نے والا اور برائیوں کو روکنے والا ہو۔ورنہ ہمارا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آنا کوئی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ ہوسکتا ہے کہ ہم الٹا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لینے والے بن جائیں کہ ایک عہد کر کے پھر اُسے پورا نہیں کر رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : دیں بار بار کہہ چکا ہوں کہ جس قدر کوئی شخص قرب حاصل کرتا ہے، اسی قدر مؤاخذہ کے قابل