خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 382
خطبات مسرور جلد دہم 382 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جون 2012ء جن اندھیروں نے دلوں پر قبضہ کر لیا تھا، انہیں روشنیوں میں بدلنا تھا۔یہ مقصد تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا۔اور ہمارے آباؤ اجداد نے یہ انقلاب اپنے اندر پیدا کیا۔اندھیروں سے روشنیوں میں آئے۔ایک انقلابی تبدیلی اپنے اندر پیدا کی ، اپنی اعتقادی اور عملی حالتوں میں ہم آہنگی پیدا کی۔لیکن اگلی نسلوں کے وہ معیار نہیں ہیں۔پس ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم اپنی عملی حالتوں کے معیار اونچے رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ اُن معیاروں کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ جو ہمارے بڑوں نے کئے ، چاہے وہ صحابہ تھے یا اُن کے بعد ہونے والے احمدی تھے۔یہاں امریکہ میں ایک بہت بڑی تعداد ایفر وامیریکن (Afro-American) کی بھی ہے۔ان کے بڑوں نے بھی جب احمدیت قبول کی تو بڑی قربانیاں کیں اور اپنی حالتوں میں تبدیلیاں پیدا کیں۔لیکن آگے جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کیا وہ حالتیں قائم ہیں؟ یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہمارے عمل اور اعتقاد میں کوئی تضاد تو نہیں؟ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے عہد اور نعرے صرف وقتی جذبات تو نہیں؟ جن شرائط پر ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کی ہے اُن کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کے لئے ہم عملی کوشش بھی کر رہے ہیں کہ نہیں ؟ پس یہ جائزے ہیں جو ہمیں اپنے ایمان میں ترقی کی طرف لے جانے اور ہمارے اعتقاد اور عمل میں ہم آہنگی پیدا کرنے والے ہوں گے۔اس وقت میں انہی جائزوں کی طرف توجہ دلانے کے لئے شرائط بیعت میں سے ایک اہم امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جو اسلام کے بنیادی ارکان میں سے بھی دوسرا اہم رکن ہے۔قرآن کریم میں بھی اس کی بار بار تاکید کی گئی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی اہمیت کی طرف بار بار توجہ دلائی ہے اور یہ اہم چیز ہے نماز۔شرائط بیعت کی تیسری شرط میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ کے حق کی ادائیگی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے سب سے پہلے اس بنیادی رکن کو لیتے ہوئے فرمایا ہے کہ میری بیعت میں آنے والے یہ عہد کریں کہ بلاناغہ پنجوقتہ نماز موافق حکم خدا اور رسول کے ادا کرتارہے گا“۔(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 564) یہاں صرف یہی نہیں فرمایا کہ عہد کرو کہ نمازیں ادا کرو گے، بلکہ پنجوقتہ نماز اور ان کی ادائیگی موافق حکم خدا اور رسول ہے۔اس کی ادائیگی اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق ہونی چاہئے۔نماز کے بارے میں خدا تعالیٰ کا کیا حکم ہے؟ فرمایا وَأَقِيمُوا الصَّلوةَ (البقرة:44) اور